ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا مذہبی جنگ کا پروپیگنڈا جاری ہے جس نے عالمی میڈیا اور ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کی ایونجلیک مسیحی حلقوں کے خصوصی دعائیہ اجتماعات میں شرکت جاری ہے تو دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نےکہا ہے ان کی فوجی کارروائی دراصل ’مسیحا کی واپسی‘ کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملےکو مذہبی اور بائبل کے تناظر میں پیش کیا ہے جس سے عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔
اس سے قبل امریکی فوج میں دعوے سامنے آئے تھےکہ صدر ٹرمپ کو روحانی طور پر منتخب کیا گیا ہے اور فوجیوں کو مذہبی تقریبات اور دعاؤں کے ذریعے حوصلہ دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں جب جنگ کو مقدس اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو سیاسی سمجھوتہ مشکل ہوجاتا ہے۔
مسیحا کی واپسی کیا ہے؟
یہودی عقیدے میں “مسیحا کی واپسی” یا “مسیحا کا آنا” (Messiah) ایک ایسا دور یا شخصیت ہے جس کا انتظار یہودی صدیوں سے کر رہے ہیں۔
مسیحا کون ہے؟
یہودی عقیدے میں مسیحا ایک انسان ہوگا، نہ کہ خدا، جو حضرت داؤد کی نسل سے ہوگا۔ اسے “Mashiach” کہا جاتا ہے۔یہود کے مطابق مسیحا آکر دنیا میں امن اور انصاف قائم کرے گا۔ یہودی قوم کو جمع کرکے اسرائیل میں واپس لائے گا۔
اسلام میں دجال کون؟
روایات کے مطابق یہودی جسے مسیح اور نجات دہندہ کہہ کر اس کا انتظار کر رہے ہیں، یہ وہی ہے جسے اسلامی تعلیمات میں دجال کہا گیا ہے اور اس کی آمد اسلامی تعلیمات میں قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








