پاکستان اور طالبان کے وفود کے درمیان استنبول میں 15 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد طالبان نے اپنا حتمی مسودہ حوالے کر دیا ہے۔ اس مسودے میں افغانستان کی زمینی اور فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنے اور پاکستان کی زمین کو “طالبان مخالفین” کے استعمال سے روکنے پر زور دیا گیا ہے۔
افغان میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ طالبان کے حتمی مسودے میں ایک چار فریقی نظام (مکینزم) کے قیام کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کی نگرانی اور معلومات کے تبادلے کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کا دوسرا دور جو کل شروع ہوا تھا، آج بھی ثالثوں کی موجودگی میں جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس مرحلے کا نتیجہ دوحہ جنگ بندی معاہدے کے فریم ورک کے تحت حتمی اتفاق کی شکل طے کرے گا۔
پاکستان کا اصرار ہے کہ مذاکرات کا مرکزی نکتہ کابل کی جانب سے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور سرحدی حملوں کے ذمہ دار دیگر گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اور ناقابلِ واپسی کارروائی ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ دو بار افغان دارالحکومت کابل پر بمباری کی تھی۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پاکستانی طالبان افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو نشانہ بناتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








