پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے مالی خسارے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو بنیاد بناتے ہوئے مالی سال 2026–27 کیلئے گیس ٹیرف میں نمایاں اضافے کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق سوئی ناردرن گیس کمپنی نے تقریباً 21 فیصد اضافے کی درخواست کی ہے جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے اس سے کہیں زیادہ یعنی 121 فیصد تک قیمت بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید یہ کہ سوئی سدرن گیس کمپنی نے گزشتہ برسوں کے دوران رہ جانے والے مالی خساروں کی مد میں 545 ارب روپے سے زائد کی ریکوری کی بھی درخواست کی ہے۔
اوگرا کی جانب سے تیار کردہ سمری کے مطابق اگر ان پرانے نقصانات کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی طور پر کمپنی کا گیس قیمتوں میں مجوزہ اضافہ 286 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔
اوگرا نے اس معاملے پر 22 اپریل کو عوامی سماعت مقرر کی ہے تاکہ سوئی سدرن گیس کے مطالبے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ کمپنی نے اپنی مجوزہ قیمت میں 3,935 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی تجویز دی ہے جو موجودہ قیمت کے مقابلے میں 121 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
سوئی سدرن گیس نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ حکومتی مقرر کردہ 1,777 روپے فی یونٹ نرخ کو بڑھا کر 6,855 روپے فی مالی سال 27 تک کیا جائے۔
اس مجوزہ قیمت میں سابقہ واجبات بھی شامل کیے گئے ہیں، جس کے باعث مجموعی اضافہ 5,078 روپے فی یونٹ یعنی 286 فیصد تک پہنچ جاتا ہے تاکہ کمپنی اپنی 1.28 کھرب روپے کی مطلوبہ آمدن حاصل کر سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








