پی آئی اے کی نجکاری کا نیا مرحلہ! 25 فیصد شیئرز 45 ارب روپے میں فروخت کیے جائیں گے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا عمل اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جس کے تحت حکومت نے نجی کنسورشیم کو انتظامی کنٹرول سونپ دیا ہے۔ حکام کے مطابق اب حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ تین ماہ کے اندر اپنے باقی 25 فیصد حصص فروخت کر دے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 45 ارب روپے بنتی ہے۔

پی آئی اے حکام نے بتایا کہ ایئرلائن اب نئے ملکیتی ڈھانچے کے تحت کام کر رہی ہے جس میں حکومت کے پاس 25 فیصد شیئرز ہیں جبکہ 75 فیصد انتظامی اختیار نجی کنسورشیم کے پاس ہے جس کی قیادت عارف حبیب گروپ کر رہا ہے اور جس نے آپریشنل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

حکام کے مطابق اس وقت ایئرلائن کے بیڑے میں 18 طیارے شامل ہیں جن میں سے 12 لیز پر ہیں جبکہ 6 کمپنی کی ملکیت ہیں اور وہ مرمت کے مراحل سے گزر رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ بیڑا نیٹ ورک کی توسیع کے لیے ناکافی ہے اور خدمات کو بہتر بنانے کے لیے فوری طور پر مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔

پروازوں کے حوالے سے پی آئی اے نے تصدیق کی کہ لندن کے لیے پروازیں 29 مارچ سے بحال کی جا رہی ہیں جبکہ پیرس کے لیے سروس پہلے ہی ہفتے میں دو پروازوں کے ساتھ جاری ہے۔ مانچسٹر کے لیے ہفتہ وار تین پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے اور ملائیشیا کے لیے پروازیں جاری ہیں۔ سعودی عرب کے لیے آپریشن خاص طور پر حج اور عمرہ ٹریفک پر مرکوز ہے۔

حکام نے واضح کیا کہ نیویارک کا روزویلٹ ہوٹل اور پیرس کا اسکرائب ہوٹل نجکاری کے معاہدے میں شامل نہیں تھے اور یہ جائیدادیں اب بھی حکومت کے پاس پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پورٹ فولیو میں موجود ہیں جن کے تجارتی مستقبل کے لیے الگ حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق تنظیم نو اور اثاثوں کی منتقلی کے بعد آپریشنل منافع میں بہتری آئی ہے۔ 2024 میں ایئرلائن نے تقریباً 26 ارب روپے منافع حاصل کیا جبکہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں تقریباً 6.8 ارب روپے منافع ریکارڈ کیا گیا جس میں بیلنس شیٹ کی کلیئرنس کا اہم کردار رہا۔

بیڑے کی ضروریات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پائیدار آپریشن اور مجوزہ توسیع کے لیے پی آئی اے کو کم از کم 25 سے 30 طیاروں کی ضرورت ہوگی تاہم اس ہدف کے حصول کی مدت نئے مالکان کی حکمت عملی پر منحصر ہوگی۔

Related Posts