سانحہ بھاٹی گیٹ میں خاتون اور بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہوگئے تھے جس پر مزید تفتیش جاری ہے جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے سخت نوٹس کے بعد داتا دربار کے توسیعی منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی کے مالکان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی نجی کمپنی کو فوری کام سے روک دیا گیا۔ کمپنی مالکان عثمان یاسین اور سلمان یاسین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے حکم پر نہ صرف متعلقہ کمپنی معطل کی گئی بلکہ غفلت کے مرتکب سرکاری افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جارہی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق داتا دربار کی تعمیراتی سائٹ کو جدید سیفٹی پروٹوکولز سے ڈھانپا گیا ہے جبکہ بھاٹی گیٹ کو محفوظ زون قرار دیتے ہوئے حفاظتی اقدامات کیے بغیر ہر قسم کا کام رکوا دیا گیا ہے۔
واقعے کے متعلق دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ مٹی پاؤ کا دور ختم ہوگیا، واقعے کی وسیع تحقیقات ہوں گی، ہر غفلت کا حساب لیا جائے گا اور مجرموں کا کیفر کردار تک پہنچایا جانا یقینی بنایا جائے گا۔ پنجاب میں عوام کی جان و مال سے کھیلنے والوں سے رعایت نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ جاں بحق خاتون نے مبینہ طور پر اپنی 9 ماہ کی بچی کی جان بچانے کیلئے سیوریج لائن میں چھلانگ لگا دی تھی، حادثے کے بعد خاتون کا شوہر رپورٹ درج کرانے گیا تو پولیس نے ایکشن لینے کی بجائے اسے ہی اپنی بیوی کا قاتل قرار دے کر اعترافِ جرم کی کوششیں شروع کردی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








