امریکہ کے محکمہ جنگ (DoW) جو پہلے محکمہ دفاع(پینٹاگون) کے نام سے جانا جاتا تھا نے ہتھیاروں کے ایک انتہائی اہم معاہدے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت پاکستان کو ایئر ٹو ایئر مار کرنے والے جدید ترین میزائلز (AMRAAM) کے خریداروں میں شامل کیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت ری تھیون (Raytheon) جو ان میزائلوں کی تیاری کرنے والی کمپنی ہے، کو 41.6 ملین ڈالر کا اضافی معاہدہ (P00026) دیا گیا ہے جو پہلے سے موجود 2.51 ارب ڈالر مالیت کے کنٹریکٹ (FA8675-23-C-0037) کا حصہ ہے۔ یہ نیا معاہدہ AIM-120C8 اور AIM-120D3 میزائلوں کی تیاری سے متعلق ہے اور مئی 2030 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
نوٹیفکیشن میں پاکستان کے علاوہ 30 سے زائد ممالک کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جن میں برطانیہ، پولینڈ، جرمنی، فن لینڈ، آسٹریلیا، قطر، عمان اور سعودی عرب شامل ہیں۔
اگر یہ میزائل پاکستان کو فراہم کیے گئے تو پاک فضائیہ (PAF) کے ایف-16 بیڑے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، خصوصاً طویل فاصلے کی فضائی لڑائی میں۔
یہ AMRAAM میزائل صرف ایف-16 طیاروں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق فروری 2019 میں آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے دوران استعمال کیے گئے تھے، جب پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے مگ-21 طیارے کو مار گرایا تھا جسے ونگ کمانڈر ابھی نندن ورتھامن اڑا رہے تھے۔
دفاعی ویب سائٹ “قوٰی” (Quwa) کے مطابق AIM-120C8 دراصل AIM-120D کا ایک برآمدی ماڈل ہے، جو اس وقت امریکی افواج میں استعمال ہونے والا سب سے جدید ورژن ہے۔
فی الحال پاک فضائیہ کے پاس AIM-120C5 ماڈل موجود ہے، جن کے تقریباً 500 یونٹ 2010 میں ایف-16 بلاک 52 طیاروں کے ساتھ حاصل کیے گئے تھے۔
یہ پیش رفت امریکا اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے، جو وسیع تر جیو پولیٹیکل حساسیتوں کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں جاری فوجی روابط کی عکاسی کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








