برطانیہ کے شہر کیمبرج کے قریب ایک ٹرین میں پیش آنے والے خوفناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔
ہفتے کے روز لندن جانے والی ایک ٹرین پر نامعلوم افراد نے اچانک چاقوؤں سے حملہ کر کے نو مسافروں کو شدید زخمی کر دیا۔ پولیس کے مطابق تمام زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔
برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مسلح اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ حملے کے بعد ٹرین کو فوری طور پر روکا گیا جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ واقعہ کے دوران ہنگامی امداد فراہم کرنے والے اہلکاروں نے انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کام کیا، جس سے مزید جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔
انسدادِ دہشتگردی پولیس نے بھی تفتیش میں معاونت شروع کر دی ہے، تاہم حملے کی وجوہات فی الحال واضح نہیں ہو سکیں۔
برطانوی ٹرانسپورٹ پولیس کے ترجمان نے کہا کہ یہ ایک تیزی سے پیش آنے والا اور نہایت تکلیف دہ واقعہ تھا، ہمارے اہلکار چند منٹوں میں موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ فی الحال عوام کے لیے کسی وسیع خطرے کی اطلاع نہیں۔
اس واقعے پر برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور متاثرین کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ ملک میں سلامتی کے احساس کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔ انہوں نے ہنگامی ریسکیو ٹیموں اور پولیس کے فوری ردعمل کو سراہا۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملے کے دوران ٹرین میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مسافر اپنی جان بچانے کے لیے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ لوگ چیخ رہے تھے، کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، سب کچھ چند لمحوں میں بدل گیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح پولیس اہلکار ٹرین کے گرد موجود ہیں اور مسافروں کو محفوظ طریقے سے باہر نکال رہے ہیں۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دونوں گرفتار مشتبہ افراد سے تفتیش جاری ہے اور کیمبرج کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ فرانزک ٹیمیں ٹرین اور قریبی ٹریکس سے شواہد اکٹھا کر رہی ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور تفتیش کے مکمل ہونے تک کسی قسم کی غیر مصدقہ اطلاع نہ پھیلائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








