پنجاب میں دفعہ 144 میں 8 نومبر تک توسیع، عوامی اجتماعات اور اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی برقرار

تازہ ترین

تازہ ترین

DI Khan police rescue 14 abducted labourers after operation in Paharpur
ONLINE

پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے جو 8 نومبر 2025 تک برقرار رہے گی۔ اس سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اور خفیہ اداروں کی جانب سے موصولہ تازہ سیکورٹی رپورٹس کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے پابندیوں کو برقرار رکھا جائے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کے تحت صوبے بھر میں عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس، دھرنے، اسلحہ لے کر چلنے، لاؤڈ اسپیکر کے استعمال اور اشتعال انگیز مواد کی تقسیم پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔

محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ یہ اقدامات فرقہ وارانہ کشیدگی، ممکنہ ہنگامہ آرائی اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں تاکہ عوامی و نجی املاک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

یاد رہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ 8 اکتوبر کو ابتدائی طور پر 10 دن کے لیے کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر تین مرتبہ اس میں توسیع کی جا چکی ہے۔

دوسری جانب وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں، جس کی صدارت وزیرِاعظم شہباز شریف نے کی، تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو ایک بار پھر انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم تنظیم قرار دینے کی منظوری دی گئی۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ٹی ایل پی متعدد مواقع پر پُرتشدد مظاہروں، اشتعال انگیزی، اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے جس سے عوامی تحفظ اور ریاستی نظم متاثر ہوا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ تنظیم کو ماضی میں 2021 میں بھی کالعدم قرار دیا گیا تھا تاہم بعد ازاں مشروط طور پر پابندی ہٹائی گئی تھی کہ وہ تشدد سے گریز کرے، مگر تنظیم نے دوبارہ وہی روش اختیار کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری اس تازہ توسیع اور کالعدم قرار دینے کے اقدامات کا مقصد صوبے اور ملک بھر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنا اور انتظامی اداروں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

Related Posts