ملائیشیا نے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے لیے نیا گولڈن ویزا متعارف کرا دیا ہے، جو ابتدائی طور پر ایک سال کے لیے جاری کیا جائے گا۔
یہ ویزا ان سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے مخصوص ہے جو ملائیشیا میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری یا کاروباری سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس ویزا کو انویسٹر پاس کا نام دیا گیا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس ویزا کے حامل افراد کو سینئر سرمایہ کار یا کاروباری شخصیت کے طور پر تسلیم کیا جائے گا، خصوصاً ایسے افراد جو مینوفیکچرنگ، تعلیم، یا ہاسپیٹیلٹی کے شعبوں سے وابستہ ہوں گے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پروگرام میں کسی مخصوص کم از کم سرمایہ کاری کی حد مقرر نہیں کی گئی، جو کہ دیگر ممالک کے گولڈن ویزا پروگرامز سے مختلف ہے۔
اس ویزا کی درخواست فیس 1296 ملائیشین رنگٹ (تقریباً 307 امریکی ڈالر) مقرر کی گئی ہے، تاہم اس میں دیگر امیگریشن فیس شامل نہیں۔
یہ ویزا ملٹی اینٹری (کثیر بار داخلے) کی سہولت کے ساتھ جاری کیا جائے گا، جس کے تحت غیر ملکی سرمایہ کار ملک میں آزادانہ طور پر آ جا سکیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ملائیشیا کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش کاروباری مرکز بنانا ہے۔
یاد رہے کہ ملائیشیا نے اس سے قبل 2022 میں پریمیئم ویزا پروگرام متعارف کرایا تھا، جو 20 سال کے لیے تھا اور مقامی ملازمت کے مواقع بھی فراہم کرتا تھا تاہم اس کی مالی شرائط کافی سخت تھیں۔
اس ویزا کے لیے کم از کم سالانہ آمدن 480000 رنگٹ (تقریباً 113660 امریکی ڈالر) اور درخواست فیس 200000 رنگٹ (تقریباً 47360 امریکی ڈالر) مقرر کی گئی تھی۔
گولڈن ویزا کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف درخواست گزار کے لیے مخصوص ہوگا، اس میں اہلِ خانہ یعنی بیوی یا بچوں کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔
ملائیشیا کا نیا گولڈن ویزا پروگرام سرمایہ کاروں کو ملک میں رہائش، بہتر صحت سہولیات، کاروباری آسانیوں اور نقل و حرکت کی آزادی جیسے فوائد فراہم کرے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








