عدم اعتماد ناکام ہوگی، ان کا 2023 کا الیکشن بھی گیا، وزیر اعظم عمران خان

تازہ ترین

تازہ ترین

عدم اعتماد ناکام ہوگی، ان کا 2023 کا الیکشن بھی گیا، وزیر اعظم عمران خان
عدم اعتماد ناکام ہوگی، ان کا 2023 کا الیکشن بھی گیا، وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کپتان کے جال میں پھنس گئے، عدم اعتماد ناکام ہوگی، ان کا 2023 کا الیکشن بھی گیا، انہوں نے کہا کہ میں اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں انہوں نے لوگوں کو ٹماٹر اور پیاز کی قیمت بھلا دی۔

وزیراعظم نے وفاقی دارالحکومت میں اوور سیز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کا دل سے شکریہ اداکرنا چاہتا ہوں، میں اس لیے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کو ٹماٹر اور پیاز کی قیمت بھلا دی، اپوزیشن نے عدم اعتماد کیا تو لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف نوازشریف اور شہبازشریف ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی درخواست والے دن شکرانے کے دو نوافل ادا کیے۔ اپوزیشن کی عدم اعتماد فیل ہونے کے ساتھ آئندہ الیکشن بھی ان کے ہاتھ سے گیا۔تھری سٹوجز نے عدم اعتماد کیا ہوا ہے، ایک طرف نوازشریف، شہبازشریف، دوسری طرف آصف زرداری ہیں، عدم اعتماد کے معاملے پر انہوں نے مجھ پراحسان کیا، برا بھلا نہیں کہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ زرداری نے پیپلزپارٹی کو بتایا کہ نوازشریف سے کرپٹ آدمی کوئی اور نہیں۔ اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے میری پوری پارٹی کو کھڑا کردیا ہے۔ تحریک انصاف ماریں کھا کر اور مشکلات کا مقابلہ کر کے یہاں تک پہنچی۔ عالمی سطح پر مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) نے فضل الرحمان کوپہلے ڈیزل کہنا شروع کیا تھا، مسلم لیگ کے ایک رنگ بازنے فضل الرحمان کا نام ڈیزل رکھا تھا، فضل الرحمان ڈیزل کے پرمٹ سے پیسے بناتا تھا۔دوران تقریرہال سے ڈیزل، ڈیزل کے نعرے لگے جس پر وزیر اعظم نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ان کا شکریہ ادا کرنے دیں، کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کوکھڑا کر دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ زرداری نے نوازشریف کوجیل میں ڈالا تھا، نوازشریف نے زرداری پر کیسز بنائے تھے، سوچ رہا تھا10دنوں میں ایک دم ملک کیسے بدل گیا، سب مہنگائی وغیرہ بھول گئے ہیں، سب جانتے ہیں اللہ کامیابی دیتا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اوورسیز پاکستانی محنت کرکے پیسہ ملک میں بھیجتے ہیں اور یہ پاکستان کا پیسہ چوری کر کے بیرون ملک لیجاتے ہیں، ہمارے دور میں اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ پیسے بھیجے۔ میں ان کی تمام مشکلات سمجھتا ہوں۔

وزیراعظم کا نواز شریف کا نام لیے بغیر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر اوباما کے سامنے جب یہ بیٹھتا تھا تو کانپیں کانپ رہی ہوتی تھیں، گھبرا کر یہ اوباما ’مسز اوباما‘ کہہ دیتا تھا، ان کوپتا ہے وہ جب چاہے ان کومنی لانڈرنگ کے کیس میں پکڑسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: شبلی فراز نے آصف زرداری کے خط کو اُن کی گھبراہٹ قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، جب لیڈر پیسہ چوری کر کے بیرون ملک جائیدادیں بناتے ہیں، اوورسیزپاکستانیوں کو زیادہ تکلیف ہوتی ہے، لندن مے فیئرمیں چوری کے پیسوں سے رہتے ہیں۔

Related Posts