بجٹ میں تاجر برادری کوکوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا، محمد کاشف چوہدری

تازہ ترین

تازہ ترین

بجٹ میں تاجر برادری کوکوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا، محمد کاشف چوہدری
بجٹ میں تاجر برادری کوکوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا، محمد کاشف چوہدری

اسلام آباد: محمد کاشف چوہدری صدر مر کزی تنظیم تا جران پاکستان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ میں نئے ٹیکس تو نہیں لگائے گئے مگر تاجر برادری کوعملاً کوئی ریلیف پیکیج نہیں دیا گیا۔

محمد کاشف چوہدری کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ معیشت کی بحالی کیلئے تاجروں نے حکو متی بجٹ سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ توقع کی جارہی تھی کہ بجٹ میں انقلابی اقدامات کے ذریعے معیشت کے پہیے کو چلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ صنعت و تجارت کی بحالی کے عملی اقدامات کی بجائے غیر حقیقت پسندانہ ریونیو اہداف رکھ دیے گئے۔ بجٹ اقدامات سے محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کی تجارت و زراعت ترجیحات میں شامل نہیں۔

بینکوں سے نقد رقوم نکلوانے پر وودہولڈنگ ٹیکس کا خاتمہ ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے مگر اس کو بھی صرف نظر کیا گیا۔ بجٹ میں صنعتوں کی بحالی و قیام کیلئے حکومت کو شرح سود ختم کرنا یا اسے فی الحال مزید کم کر کے 4% پر لانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجروں کو بلاسود کاروبار کی ضمانت پر 5 لاکھ تا 5 کروڑ کے قرضے بجٹ دستاویز کا حصہ بنانا چاہیے تھا۔ بجٹ میں سیلز ٹیکس کو 17%سترہ فیصد سے سنگل ڈیجٹ9 فیصد پر لایا جانا چاہیے تھا۔

اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کیلئے ان پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ بھی بجٹ میں شامل نہیں تو عام آدمی کو کیسے ریلیف ملے گا۔ پیداوری لاگت و اخراجات کم کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات، بجلی،گیس کی قیمتوں کو مزید کم کرنے کی طرف بھی نہیں سوچا گیا۔

صدر مر کزی تنظیم تا جران پاکستان نے کہا کہ انکم ٹیکس آمدن کی حد چار لاکھ روپے سے بڑھا کر بارہ لاکھ روپے سالانہ مقرر نہیں کی گئی۔

Related Posts