نوبیل امن انعام 2025 کے لیے اس سال دنیا بھر میں تجسس اور امید کی فضا قائم ہے، ہر شخص امن کا خواہاں ہے اور جو بھی دنیا میں حقیقی امن قائم کرنے میں کامیاب ہوگا، اُسے اس سال کے نوبیل امن انعام سے نوازا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نوبیل کمیٹی ہر سال مختلف شعبوں میں اُن شخصیات یا اداروں کو اعزاز دیتی ہے جنہوں نے سائنسی، طبی، ادبی یا سماجی سطح پر نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔
دنیا کی نظریں 10 اکتوبر پر لگی ہیں جب یہ فیصلہ ہوگا کہ 2025 کا نوبیل امن انعام کس کے حصے میں آتا ہے،امن کی پرچم بردار گریٹا تھنبرگ اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی امید وار ہیں۔
اس سال نوبیل انعامات کے اعلانات 7 اکتوبر سے شروع ہوں گے۔ فزکس کا انعام 7 اکتوبر، کیمسٹری 8 اکتوبر، ادب 9 اکتوبر، امن کا انعام 10 اکتوبر، اور معاشی علوم کا انعام 13 اکتوبر کو دیا جائے گا۔
اس سال کے نوبیل انعامات کے اعلانات سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر کیے جائیں گے۔ تاہم سب کی نظریں 10 اکتوبر کو ہونے والے امن انعام کے اعلان پر جمی ہوئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار امن انعام کے لیے مقابلہ خاصا سخت ہے۔ ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ موجود ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران سات جنگیں روکی تھیں جبکہ پاکستان نے بھی رواں سال مئی میں بھارت کے ساتھ جنگ کے خاتمے میں ان کے کردار کے باعث انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
دوسری جانب سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ ایک مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وہ حال ہی میں اُس بین الاقوامی امدادی قافلے کی قیادت کر رہی تھیں جو غزہ کے لیے امداد لے جا رہا تھا، مگر اسرائیلی افواج نے اُس قافلے پر حملہ کر کے گریٹا سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گریٹا تھنبرگ کی عالمی مقبولیت اور ان کے انسانی ہمدردی کے کام، ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبیل انعام جیتنے کا خواب مشکل بنا سکتے ہیں۔
عوامی قیاس آرائیوں اور بین الاقوامی بیٹنگ آڈز کے مطابق امسال نوبیل امن انعام کے دیگر مضبوط امیدواران میں شامل ہیںیولیا نوالنایا (روس کی انسانی حقوق کی کارکن)،سوڈان کی ایمرجنسی ریسپانس تنظیمیں (جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کے لیے)،بحیرہ روم کی ریسکیو تنظیمیں (مہاجرین کی زندگیاں بچانے کے لیے)،بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت ۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








