شمالی کوریا کے ہیکرز نے اسپائی وئیر بانٹنے کیلئے گوگل پلے کا سہارا لے لیا

تازہ ترین

تازہ ترین

Google Play
(فوٹو: اینڈرائڈ پولیس)

سائبر سیکیورٹی فرم لوک آؤٹ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے ایک جدید مستقل خطرے (APT) گروپ نے کورین اور انگریزی بولنے والے صارفین کو ایک پیچیدہ اینڈرائیڈ جاسوسی ٹول کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

یہ اسپائی ویئر، جسے کو اسپائی (KoSpy) کا نام دیا گیا ہے، مارچ 2022 سے سرگرم ہے اور صارفین کو دھوکہ دینے کے لیے خود کو مختلف یوٹیلیٹی ایپلی کیشنز کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ یہ مالویئر گوگل پلے کے ذریعے تقسیم کیا گیا اور فائر بیس فائر اسٹور کا استعمال کرکے اپنی ترتیبات حاصل کرتا اور ریموٹ آپریشنز کو منظم کرتا رہا۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے کو اسپائی کو اسکار کروفٹ (APT37) سے منسلک کیا ہے، جو شمالی کوریا کا ریاستی سرپرستی یافتہ ہیکنگ گروپ ہے اور 2012 سے فعال ہے۔ اس کا بنیادی ہدف جنوبی کوریا ہے، مگر اب اس کے حملے چین، بھارت، جاپان، کویت، نیپال، رومانیہ، روس، ویتنام اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک تک پھیل چکے ہیں۔

کو اسپائی مختلف جائز ایپلی کیشنز کا روپ دھار کر پھیلایا گیا، جیسے فون مینیجر، فائل مینیجر، سمارٹ یوٹیلیٹیز، سافٹ ویئر اپڈیٹ ٹولز اور جعلی سیکیورٹی ایپس۔ انسٹال ہونے کے بعد یہ اسپائی ویئر فائر بیس فائر اسٹور سے کنیکٹ ہوکر احکامات وصول کرتا ہے، جس سے حملہ آور متاثرہ ڈیوائس پر مکمل کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں اور اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول (C&C) سرور بھی تبدیل کر سکتے ہیں۔

کو اسپائی فعال ہونے کے بعد حساس ڈیٹا اکٹھا کر سکتا ہے، جن میں ایس ایم ایس پیغامات، کال لاگز، ڈیوائس لوکیشن، اسکرین شاٹس، مائیکروفون ریکارڈنگز، تصاویر کی اسٹروکس اور انسٹال شدہ ایپس کی فہرست شامل ہیں۔ یہ وائی فائی نیٹ ورکس کی نگرانی بھی کرتا ہے اور چرایا گیا ڈیٹا انکرپٹ کرکے ریموٹ سرورز پر بھیجتا ہے۔

Related Posts