سندھ کے صحافی اور یوٹیوبر امتیاز چانڈیو نے اپنے یوٹیوب وی لاگ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما فریال ٹالپور کی صاحبزادی عائشہ ٹالپور کی شادی سے متعلق اہم اور متنازع دعوے کیے ہیں۔
امتیاز چانڈیو کے مطابق عائشہ ٹالپور کی شادی سید شبیہ علی سے ہوئی ہے جو ان کے بقول سندھ حکومت میں گریڈ 14 کے اسسٹنٹ رجسٹرار رہ چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سید شبیہ علی پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کی پہلی اہلیہ سے اولاد ہے جو مبینہ طور پر لندن اور امریکا میں مقیم ہے۔
شاہی شادی اور اخراجات پر سوالات
اپنے وی لاگ میں امتیاز چانڈیو نے اس شادی کو ایک مبینہ شاہی تقریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سندھ کے عوام بنیادی ضروریات، روزگار اور روٹی کے لیے پریشان ہیں جبکہ دوسری جانب اربوں روپے کی لاگت سے شادی کی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں جن میں ملکی سطح کی اہم سیاسی شخصیات اور نامور فنکار شریک ہوئے۔
ان کے مطابق اس تقریب میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی شرکت، وی وی آئی پی سکیورٹی کے سخت انتظامات اور معروف گلوکاروں عابدہ پروین اور راحت فتح علی خان کی پرفارمنس نے اسے ایک غیر معمولی اور مہنگی تقریب بنا دیا۔ امتیاز چانڈیو نے سوال اٹھایا کہ اتنی خطیر رقم کہاں سے آئی؟
دولہا سے متعلق دعوے
وی لاگ میں دعویٰ کیا گیا کہ سید شبیہ علی کا ماضی میں کراچی کے ایک رجسٹرار آفس سے تعلق رہا جہاں پراپرٹی اور زمینوں سے متعلق بڑے مالی معاملات اور مبینہ فراڈ کیسز زیرِ بحث رہے۔امتیاز چانڈیو کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحقیقات کے بعد وہ کچھ عرصہ بیرونِ ملک چلے گئے تھے تاہم بعد میں واپس آ گئے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ عائشہ ٹالپور اور سید شبیہ علی کی شادی کسی رومانوی تعلق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مفاداتی اور سیاسی نوعیت کا رشتہ ہے اور اب داماد بننے کے بعد سید شبیہ علی کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوگا۔
دولت اور اثر و رسوخ میں اضافے کا دعویٰ
امتیاز چانڈیو کا کہنا ہے کہ 2007 سے قبل یہ خاندان نسبتاً سادہ طرزِ زندگی گزار رہا تھا تاہم بعد کے برسوں میں دولت اور سیاسی اثر و رسوخ میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی اور دیگر شہروں میں قیمتی جائیدادیں، بڑے بنگلے اور شاہانہ طرزِ زندگی اچانک سامنے آئی۔
وی لاگ میں جعلی اکاؤنٹس کیس کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ غریب اور نادار افراد کے نام پر اکاؤنٹس استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ گرفتاری سے قبل مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی منتقلی کے الزامات بھی دہرائے گئے۔
شاہی تقریبات پر تنقید
امتیاز چانڈیو نے شادی کی تقریبات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قوالی نائٹس، سنگیت کی تقریبات، حکومتی پروٹوکول
سخت سکیورٹی انتظامات، یہ سب سندھ کے وسائل کا ضیاع ہیں خاص طور پر ایسے صوبے میں جہاں عام شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
وی لاگ کے اختتام پر امتیاز چانڈیو نے سندھ کے عوام سے اپیل کی کہ وہ سوال اٹھائیں اور حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے دعوے غلط ثابت ہوں تو وہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں تاہم عوام کو خود حقائق کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس وی لاگ کو محض ایک تبصرہ نہیں بلکہ سندھ کی سیاست پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیا۔
امتیاز چانڈیو نے اپنے وی لاگ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ زرداری خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری کا کوئی سگا بھائی نہیں جس کا انہیں ذاتی طور پر دکھ ہے۔
انہوں نے کہا کہ فریال ٹالپور کا ایک ہی بیٹا تھامیر سرور ٹالپور جس نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ امتیاز چانڈیو کے مطابق یہ واقعہ پسند کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا اور اس تعلق سے ایک بیٹی بھی تھی جسے بعد میں ایک سیاسی خاندان نے پرورش میں لیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








