فرانس میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں اس بار بڑا الٹ پھیر دیکھنے کو ملا ہے۔ مارین لی پین کی قیادت میں انتہائی دائیں بازو کی پارٹی نیشنل ریلی (RN) غیر متوقع جیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وہیں صدر ایمنوئل میکرون کی پارٹی تیسرے نمبر پر کھسک گئی ہے۔
میرین لی پین چاہتی ہیں کہ ان کا جانشین جارڈن بارڈیلا وزیر اعظم بنے۔ بارڈیلا کی عمر صرف 28 سال ہے لیکن اس کی مقبولیت اپنے عروج پر ہے لیکن وہاں رہنے والے مسلمان کافی فکرمند اور خوفزدہ ہیں۔
انتہائی دائیں بازو کی جماعت کی جیت نے یورپی ممالک کے لیڈروں کی نیندیں بھی اڑا دی ہیں، کیونکہ بارڈیلا فرانس فرسٹ کی بات کرتا ہے۔ وہ مسلم مہاجرین کو ملک سے نکالنے کی وکالت کرتا ہے۔ یورپی یونین کو بکواس قرار دیتا ہے۔ جرمنی سمیت فرانس کے سبھی ہمسایہ ممالک میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
میرین لی پین اور جارڈن بارڈیلا فرانسیسی ثقافت کو اپنانے پر اصرار کرتے ہیں۔ تارکین وطن کی گنتی اور ان سے تفتیش کی بات ہو رہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بارڈیلا نے فرانس کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اگر ان کی حکومت بنتی ہے تو وہ دوہری شہریت کے حامل افراد کو اہم سرکاری عہدوں سے ہٹا دیں گے۔
بارڈیلا نے کہا تھا کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ ان لوگوں کی وجہ سے میں اپنے ہی ملک میں پردیسی بن گیا ہوں۔ میں نے اپنے پڑوس کی اسلامائزیشن کا تجربہ بھی کیا ہے۔ ہم اسے تبدیل کرنا چاہیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








