اسمارٹ فونز عموماً کئی سال تک چلتے ہیں خاص طور پر ان مارکیٹس میں جہاں نیا فون لینا ہر کسی کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ ایسے صارفین جو پرانے اینڈرائیڈ ڈیوائسز پر ابھی بھی واٹس ایپ استعمال کر رہے ہیں ان کے لیے اب وقت محدود ہوتا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 8 ستمبر 2026 سے واٹس ایپ ان فونز پر کام کرنا بند کر دے گا جو اینڈرائیڈ 5.0 اور 5.1 پر چل رہے ہیں۔ اس کے بعد اس ایپ کے لیے کم از کم اینڈرائیڈ 6.0 ہونا لازمی قرار دے دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد متاثرہ صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بروقت اپنے ڈیٹا کا بیک اپ بنا لیں، سسٹم اپڈیٹ کریں یا نیا فون استعمال کرنا شروع کر دیں تاکہ وہ میسجز بھیجنے اور وصول کرنے کی سہولت سے محروم نہ ہوں۔
سپورٹ میں بڑی تبدیلی اور نیا سسٹم ریکوائرمنٹ
واٹس ایپ اب اینڈرائیڈ 6.0 یا اس سے جدید ورژن پر ہی کام کرے گا جبکہ پرانے ورژنز کے لیے سپورٹ ختم کر دی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق ایک نوٹیفکیشن میں صارفین کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ اس سال کے آخر کے بعد یہ ڈیوائس واٹس ایپ کیلئے قابل استعمال نہیں رہے گی۔
ماہرین کے مطابق 8 ستمبر کے بعد وہ صارفین جو پرانا اینڈرائیڈ ورژن استعمال کر رہے ہوں گے وہ نہ میسج بھیج سکیں گے اور نہ ہی وصول کر سکیں گے۔
یہ تبدیلی صرف اینڈرائیڈ ڈیوائسز تک محدود ہے جبکہ آئی فون صارفین کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ واٹس ایپ iOS 15.1 یا اس سے جدید ورژنز پر معمول کے مطابق چلتا رہے گا۔
پرانے فونز اور بڑھتا ہوا مسئلہ
اینڈرائیڈ 5.0 ورژن 2014 میں جاری کیا گیا تھا اور اب یہ ایک دہائی سے زیادہ پرانا ہو چکا ہے لیکن اب بھی کچھ علاقوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ خاص طور پر ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ جیسے خطوں میں پرانے فونز کا استعمال اب بھی عام ہے جہاں ہر صارف نیا فون خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق واٹس ایپ کا یہ فیصلہ سیکیورٹی، اسٹیبلٹی اور جدید سسٹمز کے ساتھ مطابقت بہتر بنانے کیلئے کیا گیا ہے کیونکہ پرانے ورژنز اب نئے فیچرز اور سیکیورٹی اپڈیٹس کو سپورٹ نہیں کرتے۔
صارفین کو کیا کرنا چاہیے؟
واٹس ایپ نے متاثرہ صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مقررہ تاریخ سے پہلے ہی اپنی صورتحال چیک کریں اور فوری اقدامات کریں۔
سب سے پہلے فون کی سیٹنگز میں جا کر یہ دیکھیں کہ آیا ڈیوائس کو اینڈرائیڈ 6.0 یا اس سے اوپر اپڈیٹ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اگر اپڈیٹ ممکن ہو تو فوراً انسٹال کرنا ضروری ہے تاکہ واٹس ایپ کا استعمال جاری رکھا جا سکے۔
اگر فون اپڈیٹ کے قابل نہیں ہے تو صارفین کو چاہیے کہ وہ اپنی چیٹس کا بیک اپ ضرور بنا لیں۔ یہ بیک اپ گوگل ڈرائیو یا فون کی اندرونی میموری میں محفوظ کیا جا سکتا ہے تاکہ بعد میں نیا فون لینے پر ڈیٹا ضائع نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق بہتر یہی ہے کہ آخری وقت کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ ابھی سے تیاری شروع کر دی جائے تاکہ سروس بند ہونے کے بعد کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








