آئل ٹینکرز مالکان نے ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے مسائل کے حل کیلئے انتظامیہ کو تین دن کی ڈیڈ لائن دیدی۔
آئل ٹینکر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن اور آئل ٹینکرزاونرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم انتظامیہ کو 72 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ہم ملک بھر میں سپلائی بند کردینگے۔
صدر آئل ٹینکر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن عابد اللہ آفریدی کا کہنا تھا کہ پشاور میں جلنے والے ٹینکرز کا معاوضہ تاحال ادا نہیں کیا گیا، متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں، ہم اس نقصان کا ازالہ چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا اس وقت لوگ پریشان ہیں لیکن پشاور میں ہونے والے اتنے بڑے مالی نقصان کے بعد کسی نے لب کشائی کی زحمت نہیں کی، انہوں نے مزید کہا کہ ہم کرایوں میں اضافہ اوروہائٹ پائپ لائن میں اپنے حصہ چاہتے ہیں۔ ہماری گاڑیاں بینکوں سے نکالی گئی ہیں اگر ہمارے مسائل پر توجہ نہ دی گئی تو ہمارے ساتھ ساتھ بینک بھی دیوالیہ ہوجائیں گے۔
اس موقع پر جنرل سیکریٹری شعیب اشرف نے کہا کہ انتظامیہ جان لے کرایوں میں اضافہ اب ناگزیر ہوگیا ہے، اس کی وجہ صرف ڈیزل کی قیمت کا بڑھنا نہیں دیگر اخراجات بھی ہیں جو تین ماہ میں ہونے والی بدترین مہنگائی کا شاخسانہ ہیں۔
کراچی سے لاہور آنے جانے میں ایک لاکھ روپے ڈیزل کی مد میں ہمارے اوپر اضافی بوجھ ہے جو ناقابل برداشت ہے، اس صورت حال میں کاروبار کرنا ناممکن ہوگیا ہے، حکومت ہمارے مسائل فوری حل کرے۔