پاکستان کے اسپورٹس شعبے کیلئے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، قومی ہیرو ارشد ندیم سمیت سات دیگر قومی کھلاڑیوں کو اولمپک اسکالرشپ سے نوازا گیا ہے۔
یہ معاونت ستمبر 2025 سے اگست 2028 تک تین برس جاری رہے گی۔ اس اسکالرشپ کے ذریعے کھلاڑیوں کو مالی مدد فراہم کی جائے گی تاکہ وہ بین الاقوامی مقابلوں، خصوصاً 2028 کے اولمپک گیمز کی تیاری بہتر انداز میں کرسکیں۔
پاکستان کے لیے یہ اعلان ایک مثبت قدم ہے جو اس کی اولمپک نمائندگی کو مضبوط کرنے اور اعلیٰ درجے کی تربیت کے لیے کھلاڑیوں کو مدد دے گا۔
اس پروگرام کے لیے آٹھ کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں تجربہ کار اسٹارز کھلاڑیوں کے ساتھ مختلف کھیلوں سے تعلق رکھنے والے ابھرتے نوجوان بھی شامل ہیں۔ ایتھلیٹکس کے شعبے سے ارشد ندیم اس گروپ کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ دیگر کھلاڑی شوٹنگ سمیت مختلف اولمپک کھیلوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ انتخاب اُن کھلاڑیوں کی صلاحیت اور عزم کا اعتراف ہے جو انہوں نے گزشتہ برسوں میں دکھایا ہے اور یہ انہیں آئندہ بین الاقوامی مقابلوں کے لیے مضبوط پوزیشن میں لاتا ہے۔
اولمپک اسکالرشپ کا کیا فائدہ ہے؟
اس اسکالرشپ کے تحت کھلاڑی کو بنیادی ٹریننگ کے اخراجات کیلئے سالانہ مالی معاونت ملتی ہے۔ اس میں شامل ہیں:
-
کوچنگ اور ٹریننگ کے اخراجات
-
آلات اور غذائی ضروریات
-
مقابلوں کے لیے ملکی و بین الاقوامی سفر
-
طبی دیکھ بھال اور صحت یابی
-
ہائی پرفارمنس ٹریننگ ماحول تک رسائی
اولمپک اسکالرشپ کا ملنا صرف مالی تعاون نہیں بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ بین الاقوامی کھیلوں کے ادارے پاکستان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے ہیں۔
یہ پورے ملک کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی حوصلہ افزائی ہے جو پاکستان کی نمائندگی کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اس حوصلہ افزائی کے ذریعے پاکستان کرکٹ سے آگے بڑھ کر عالمی کھیلوں میں اپنی موجودگی مضبوط بنا سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








