وفاقی وزارتِ خزانہ نے تمام وزارتوں، ڈویژنز، سرکاری محکموں اور خودمختار اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنے غیر استعمال شدہ فنڈز 10 دن کے اندر واپس جمع کروائیں تاکہ مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ تخمینے اور آئندہ بجٹ کی تیاری مکمل کی جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق فنانس ڈویژن نے تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو کہا ہے کہ وہ 10 مئی تک مختلف اخراجاتی مدات میں متوقع بچتوں کی تفصیلات جمع کروائیں اور یہ معلومات بجٹ سیکشن کو سسٹم میں اندراج کے لیے فراہم کی جائیں اس کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی وزارت خزانہ کو ہدایت دی ہے کہ فنڈز کی بروقت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور اضافی بجٹ کی درخواست کرنے والے اداروں کا احتساب کیا جائے۔
یہ ہدایات سرکاری اخراجات کی چار بڑی کیٹیگریز پر لاگو ہوں گی جن میں سول حکومت کے جاری اخراجات، ملازمین کی تنخواہیں و دیگر غیر تنخواہ اخراجات، گرانٹس، سبسڈیز اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے تحت ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پہلے ڈیڈ لائن 31 مئی تھی تاہم پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے سیکشن 12 کے تحت اسے آگے بڑھا کر 10 مئی کردیا گیا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے اور وسائل کی بروقت دوبارہ تقسیم ممکن ہو سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاری مالی سال کے دوران PSDP کے فنڈز میں پہلے ہی 173 ارب روپے کی کمی کی جا چکی ہے جس کی وجہ بڑھتی ہوئی پیٹرولیم قیمتوں اور سبسڈی کے دباؤ کو قرار دیا جا رہا ہے خاص طور پر ایران سے متعلق خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی اداروں نے مالی سال کے پہلے نو ماہ میں ترقیاتی بجٹ کا نصف سے بھی کم خرچ کیا ہے۔ جولائی سے مارچ کے دوران PSDP کے تحت مجموعی طور پر 415 ارب روپے خرچ کیے گئے جو کہ ایک کھرب روپے کے مختص بجٹ کا صرف 41.5 فیصد بنتا ہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ شرح 36.4 فیصد تھی۔
31 مارچ تک وزارتوں اور ڈویژنز نے 589 ارب روپے کے اخراجات کی اجازت لی تھی لیکن اصل خرچ 414.96 ارب روپے رہا۔ اس کے برعکس پارلیمنٹرینز کے ترقیاتی منصوبوں میں استعمال کی شرح زیادہ رہی جہاں نو ماہ میں تقریباً 70 فیصد فنڈز خرچ کیے گئے۔
اسی طرح پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت 63.24 ارب روپے میں سے 57.23 ارب روپے منظور کیے گئے جبکہ 44 ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں۔
وزارت خزانہ کے شیڈول کے مطابق مالی سال میں فنڈز کی تقسیم اس طرح کی جاتی ہے کہ پہلے کوارٹر میں 15 فیصد، دوسرے میں 20 فیصد، تیسرے میں 25 فیصد جبکہ آخری سہ ماہی میں 40 فیصد جاری کیے جاتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








