پاکستان کے 16 فیصد خصوصی افراد کیلئے معذوروں کی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کسی امتحان سے کم نہیں، اس مسئلے کے حل کیلئے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے وزارت تجارت کو خصوصی گاڑیوں کی امپورٹ کے عمل کو سہل بنانے اور اس پر کم سے کم ٹیکسز عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔
سینیٹر عبدالقادر نے قائمہ کمیٹی میں خصوصی افراد کو گاڑیوں کی امپورٹ کے حوالے سے درپیش مسائل کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ اس وقت ملک میں خصوصی افراد کو گاڑیوں کی امپورٹ پر مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
فلسطینیوں کے حق میں متفقہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کیلئے تمام مکاتب فکر کا اجتماع طلب
انہوں نے مطالبہ کیا کہ خصوصی افراد کو استعمال شدہ گاڑی کی درآمد کی بھی اجازت دی جائے، وزارت صنعت کا اعتراض درست نہیں اور خصوصی افراد کو سستی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہونی چاہیے۔ سینیٹر عبدالقادر نے تجویز دی کہ خصوصی افراد پر گاڑی کی درآمد کے بعد 5 سال گاڑی فروخت کرنے کی پابندی عائد کردی جائے۔
وزارت تجارت کے اعلی حکام نے کمیٹی کو معاملے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خصوصی افراد کے لیے گاڑیوں کی سہولت اسٹیٹ بینک کے ذریعے ہوتی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار کو اعتراض ہے کہ خصوصی افراد کے لیے استعمال شدہ کار کی درآمد پر پابندی نہ ہٹائی جائے۔ گزشتہ تین سالوں میں خصوصی افراد کے لیے صرف تین گاڑیاں امپورٹ کی گئیں۔ خصوصی افراد کے لیے سیکنڈ ہینڈ کار کی ڈیوٹی فری درآمد کی سمری پر 2021 میں غور کیا گیا۔ وزارت صنعت نے اس سمری پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
حکام وزارت تجارت کا کہنا تھا کہ خصوصی افراد کو گاڑی درآمد کرنے کی اجازت خصوصی کمیٹی دیتی ہے۔ خصوصی افراد پہلے محکمہ صحت کو درخواست دیتے ہیں پھر وہاں سے کمیٹی کے پاس درخواستیں غور کے لیے آتی ہیں۔
کمیٹی نے ہدایت کی کہ خصوصی افراد کے لیے 1300 سی سی سے زائد کی گاڑیوں کی درآمد کی بھی اجازت دی جائے۔ وزارت تجارت تمام طریقہ کار پر نظر ثانی کے لیے اپنی تجاویز کمیٹی کو دے اور خصوصی افراد کو سستے قرض کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








