ہالی وڈ کی سب سے بڑی اور باوقار فلمی تقریب آسکرز 2026 اس بار نہ صرف فلمی کامیابیوں بلکہ عالمی سیاسی اشاروں اور جذباتی لمحات کے باعث بھی اہمیت اختیار کرگئی۔ امریکی شہر لاس اینجلس کے ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں فلم ’ون بیٹل آفٹر انادر‘ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے بہترین فلم سمیت چھ آسکر ایوارڈز اپنے نام کر لیے۔
یہ فلم مجموعی طور پر 13 نامزدگیوں کے ساتھ میدان میں اتری تھی اور بہترین فلم، بہترین معاون اداکار اور بہترین اسکرین پلے جیسی اہم کیٹیگریز میں کامیابی حاصل کر کے ناقدین اور مداحوں دونوں کی توقعات پر پورا اتری۔ فلمی حلقوں کے مطابق اس فلم کی کہانی، اداکاری اور ہدایت کاری نے اسے اس سال کی سب سے نمایاں تخلیق بنا دیا۔
اس کے مقابلے میں 16 نامزدگیوں کے ساتھ آنے والی ہارر تھرلر فلم ’سنرز‘ بھی اس سال آسکرز کی بڑی دعویدار تھی۔ اس فلم کے مرکزی اداکار مائیکل بی جورڈن نے بہترین اداکار کا آسکر جیت کر اپنی اداکاری کا ایک اور سنگِ میل عبور کیا۔ ناقدین کے مطابق ان کی پرفارمنس شدت، جذبات اور کردار کی پیچیدگی کو بہترین انداز میں پیش کرنے کی مثال بن گئی۔
اداکاری کے میدان میں خواتین کیٹیگری میں آئرش اداکارہ جیسی بکلی نے فلم ’ہیملٹ‘ میں ولیم شیکسپیئر کی اہلیہ ایگنس کا کردار ادا کر کے بہترین اداکارہ کا آسکر اپنے نام کیا۔ ان کی پرفارمنس کو “کلاسیکل ادب اور جدید اداکاری کا حسین امتزاج” قرار دیا جا رہا ہے۔
اسی طرح فلم ’وپینز‘ میں شاندار اداکاری کرنے والی ایمی میڈیگن بہترین معاون اداکارہ کا آسکر جیتنے میں کامیاب رہیں، جب کہ فلم ’ون بیٹل آفٹر اینیدر‘ کے لیے شان پین کو بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔
ہدایت کاری اور تحریر کے شعبے میں بھی اہم کامیابیاں دیکھنے میں آئیں۔ معروف امریکی فلم ساز پال تھامس اینڈرسن نے اسی فلم کے لیے بہترین ایڈاپٹڈ اسکرین پلے کا آسکر جیتا، جو ان کے کیریئر کا پہلا اکیڈمی ایوارڈ ہے، حالانکہ وہ اس سے قبل 14 بار نامزد ہو چکے تھے۔
فلم ’سنرز‘ کے لیے ریان کاگلر کو بہترین اوریجنل اسکرین پلے کا آسکر دیا گیا، جسے ناقدین نے جدید ہالی وڈ کہانی سنانے کی بہترین مثال قرار دیا۔اینیمیشن کی دنیا میں بھی نمایاں کامیابیاں سامنے آئیں۔ بہترین اینیمیٹڈ فلم کا ایوارڈ کے پاپ ڈیمن ہنٹرز کو ملا جبکہ بہترین اینیمیٹڈ شارٹ فلم دی گرل ہو کرائیڈ پرلز کے حصے میں آئی۔
تقریب کی میزبانی معروف امریکی ٹی وی میزبان اور کامیڈین کونین اوبرائن نے کی۔ ان کی برجستہ مزاحیہ گفتگو اور حاضر جوابی نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا، جس پر حاضرین نے بارہا کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔
ریڈ کارپٹ اور ایوارڈ پریزنٹیشن کے مرحلے میں کئی عالمی ستارے جلوہ گر ہوئے۔ ان میں پریانکا چوپڑا، نکول کڈمن، ، رابرٹ ڈاؤنی جونیئر، این ہیتھاوے اور کرس ایونز شامل تھے، جنہوں نے مختلف کیٹیگریز کے ایوارڈز پیش کیے۔
ان ستاروں کی موجودگی نے تقریب کو مزید پرشکوہ بنا دیا، اور فیشن ناقدین کے مطابق اس سال کا ریڈ کارپٹ انداز اور نفاست کے اعتبار سے خاصا متاثر کن رہا۔
تاہم تقریب کا سب سے زیادہ زیرِ بحث لمحہ اس وقت آیا جب ہسپانوی اداکار ہاویر ہارڈیم نے اسٹیج پر فلسطین کو آزاد کرو اور “کوئی جنگ نہیں” کا نعرہ لگایا۔ اس لمحے ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور عالمی میڈیا میں یہ لمحہ فوراً سرخیوں کا حصہ بن گیا۔ اس موقع پر پریانکا چوپڑا بھی ان کے ساتھ موجود تھیں، جس نے اس منظر کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا۔
تقریب میں ہالی وڈ کے بڑے نام بھی شریک ہوئے جن میں لیونارڈو ڈی کیپریو بھی شامل تھے۔ ان کی موجودگی نے تقریب کو مزید وقار بخشا۔
اس سال کے آسکرز ایک ایسے عالمی ماحول میں منعقد ہوئے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں آسکرز کی تاریخ میں نامزد ہونے والی پہلی ایرانی دستاویزی فلم ’کریکنگ دی راکس‘ کے ہدایت کاروں نے بھی اپنے ملک کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
مجموعی طور پر آسکرز 2026 کو فلمی کامیابیوں، غیر متوقع نتائج اور عالمی پیغامات سے بھرپور ایک ایسی رات قرار دیا جا رہا ہے جس نے نہ صرف سنیما کی طاقت کو اجاگر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ فنونِ لطیفہ کی دنیا عالمی ضمیر کی آواز بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








