پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے کارکنان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ راستے میں رکنے سے وقت ضائع ہو رہا ہے، سابق خاتون اول نے کارکنوں سے درخواست کی کہ وہ اپنی سواریوں پر بیٹھ کر سفر جاری رکھیں تاکہ قافلہ تیز رفتار سے منزل تک پہنچ سکے۔
یہ واقعہ اٹک کے غازی پُل کے قریب پیش آیا جہاں بشریٰ بی بی قافلے کے رکنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی گاڑی میں بیٹھ کر مائیکرو فون کے ذریعے کارکنان کو خطاب کیا اور کہا کہ ایسے وقت ضائع ہورہا ہے، اور کارکنوں کو اپنی سواریوں پر بیٹھنے کا مشورہ دیا۔
بشریٰ بی بی نے واضح طور پر کہا کہ “ہم خان کو لیے بغیر واپس نہیں آئیں گے، ہم خان کو لینے آ رہے ہیں تو آپ اپنی اپنی سواریوں پر بیٹھیں تاکہ ہم تیز پہنچ سکیں۔” ان کا مقصد کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا تاکہ وہ جلدی سے منزل تک پہنچ کر کسی بھی رکاوٹ کے بغیر اپنی کارروائی جاری رکھ سکیں۔
جب تک خان ہمارے پاس نہیں آجائیں گے ہمیں مارچ کو ختم نہیں کرنا، بشریٰ بی بی کا ہزارہ انٹرچینج پر پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب pic.twitter.com/ZiDPCEMOQ9
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) November 25, 2024
اس دوران وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اٹک میں تھوڑی دیر کے لیے رکا، جہاں انہوں نے کارکنوں کو آرام کرنے کی اجازت دی تاکہ وہ مزید سخت مقابلوں کے لیے تیاری کر سکیں۔
جب یہ قافلہ صوابی سے پنجاب کی حدود میں داخل ہو رہا تھا، تو اٹک پل، چھچھ انٹرچینج اور غازی برتھا نہر پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران قافلے میں موجود افراد اور کارکنان نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا، جس سے ان کی پیش رفت میں مزید تاخیر ہوئی۔ بشریٰ بی بی کا یہ خطاب کارکنوں میں نئی توانائی پیدا کرنے کی کوشش تھا تاکہ وہ اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








