امریکا نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر باہر لے جائے گئے 450 سے زائد تاریخی نوادرات واپس کر دیے ہیں، جنہیں اسلام آباد میوزیم میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران باضابطہ طور پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق تقریب میں دونوں ممالک نے نوادرات کی اسمگلنگ کی روک تھام اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اپنے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ وطن واپس آنے والی اشیاء میں کئی نایاب اور تاریخی اعتبار سے انتہائی اہم نوادرات شامل ہیں۔
یہ نوادرات امریکی اداروں اور پاکستانی حکام کے باہمی تعاون سے بازیاب کیے گئے، جنہیں اب پاکستان میں محفوظ رکھنے کے ساتھ عوامی نمائش کیلئے بھی پیش کیا جائے گا تاکہ لوگ اپنے تاریخی ورثے سے آگاہ ہو سکیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی و وسط ایشیائی امور کیلئے امریکی معاون وزیر خارجہ ایس پال کپور نے کہا کہ یہ نوادرات پاکستان کی تاریخ کے ابواب کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپس ملنے والی اشیاء میں ٹیراکوٹا کے مجسمے بھی شامل ہیں جو 4000سال سے زائد عرصہ پرانے ہیں۔
مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس کی نوادرات اسمگلنگ یونٹ نے ان تمام تاریخی اشیاء کی برآمدگی میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ 10 برس کے دوران امریکا تقریباً 23 ملین ڈالر مالیت کے 514 نوادرات پاکستان واپس کر چکا ہے، جو بین الاقوامی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف جاری تحقیقات کے دوران ضبط کیے گئے تھے۔
امریکا کی جانب سے پاکستان کو واپس کیے گئے نوادرات میں 1.1 ملین ڈالر مالیت کا بدھا پاڑا کا نایاب مجسمہ بھی شامل ہے، جسے غیر قانونی طور پر نیویارک منتقل کیا گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے ان قیمتی نوادرات کی واپسی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








