پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے فوری طور پر جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیشرفت قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے جس کا اعلان قطر کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کی صبح کیا۔
گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان 2,600 کلومیٹر طویل متنازع سرحد پر ہونے والی شدید لڑائی میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ یہ 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین کشیدگی تصور کی جا رہی ہے۔
جنگ بندی کی اہم نکات:
فوری جنگ بندی: دونوں ممالک نے تمام دشمن کارروائیاں فوراً بند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
دوحہ میں معاہدہ: قطر اور ترکیہ کی معاونت سے ہفتے کے روز مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔
مستقبل کی میٹنگز: دونوں ممالک اس بات پر بھی متفق ہوئے ہیں کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقبل میں مزید اجلاس کیے جائیں گے اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کا ایک مستحکم نظام بنایا جائے گا۔
انسداد دہشت گردی پر توجہ: بات چیت میں سرحد پار دہشت گردی پر خاص زور دیا گیا، خاص طور پر ان حملوں پر جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے پاکستان پر کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ قیادت کی سطح پر بات چیت: افغان وفد کی قیادت طالبان کے وزیر دفاع ملا یعقوب نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کی۔
الزامات اور جوابی الزامات:
پاکستان نے کابل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان میں حملے کرنے والے شدت پسند گروہوں کو پناہ دے رہا ہے جبکہ طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور الٹا پاکستان پر داعش سے منسلک شدت پسندوں کی پشت پناہی کرنے کا الزام لگاتی ہے تاکہ افغانستان کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
حالیہ کشیدگی کا پس منظر:
جمعہ کو ایک خودکش حملے میں سات پاکستانی فوجی جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد پاکستان نے افغان سرحد پار موجود شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کارروائی کی۔
دوسری طرف افغانستان نے ان حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کا الزام لگایا ہے جن میں مبینہ طور پر تین مقامی کرکٹرز بھی شامل تھے۔ اس احتجاج کے طور پر افغان کرکٹ بورڈ نے پاکستان کے ساتھ شیڈول ٹی ٹوئنٹی سیریز سے دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔
یہ جنگ بندی دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم کوشش مانی جا رہی ہے مگر اس کے پائیدار رہنے کا انحصار آئندہ اقدامات اور اعتماد کی فضا قائم ہونے پر ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








