دوحہ میں پاکستان اور افغانستان آمنے سامنے، مذاکرات کا پہلا دور مکمل، جانئے کیا کچھ طے پایا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پاک افغان وزرائے دفاع، فائل فوٹو

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اہم مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا ہے، جبکہ بات چیت کا دوسرا مرحلہ اتوار کو ہوگا۔

قطر ان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور دونوں فریقین ایک جامع امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کر رہے ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق مذاکرات کا مرکزی نکتہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اور پاک افغان سرحد پر پائیدار امن و استحکام کی بحالی ہے۔ پاکستان نے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم افغان طالبان حکام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

پاکستانی وفد نے مذاکرات میں زور دیا کہ افغان حکام پاکستان کے جائز سیکیورٹی خدشات دور کریں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کریں۔

ذرائع کے مطابق فریقین امن معاہدے کے نکات پر اتفاق کے قریب ہیں، اور توقع ہے کہ حتمی منظوری کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے قطر کی ثالثی اور امن کی بحالی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مذاکرات خطے میں دیرپا استحکام اور تعاون کے نئے باب کا آغاز ثابت ہوں گے۔

Related Posts