اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستا ن اور جرمنی کے درمیان آمدنی پر دہرے ٹیکسوں اور ٹیکسوں کی چوری روکنے کے معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع کئے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے ٹیکس وفود کے درمیان اٹھارہ سے بائیس ستمبر تک بات چیت کا پہلا دور اسلام آباد میں ہوا۔
دونوں ممالک کے وفود کے سربراہوں نے معاہدے کی کلیدی شقوں پر تفصیلی بات چیت اور اتفاق رائے کے بعد معاہدے کے اولین مسودے پر دستخط کر دیئے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان دہرے ٹیکسوں سے بچنے کا موجودہ معاہدہ 1994 میں کیا گیا تھا جس پر قومی اور بین الاقوامی ضروریات کے مطابق ٹیکس قوانین اور قواعد میں تبدیلیوں کے تناظر میں نظرثانی کی ضرورت تھی۔
حتمی شکل اختیار کر لینے کے بعد نظر ثانی شدہ معاہدہ نہ صرف دونوں ملکوں کے باشندوں کو آمدنی پر دہرے ٹیکسوں سے محفوظ رکھنے میں مدد دے گا بلکہ ٹیکس سے بچنے یا کم ٹیکس ادا کرنے جیسے معاملات میں کمی لائے گا۔
اس معاہدہ سے باہمی اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے، معاشی تعاون میں اضافہ کرنے اور دونوں ممالک کے مابین سرمایہ کاری کو بڑھانے میں مدد ملے گی جبکہ سرحد پار کاروباری ٹرانزیکشنز پر لاگو ٹیکسیشن قواعد پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:حکومت پی ٹی آئی کے جمہوری حق کا تحفظ کرے گی، نگران وزیر اعظم
دونوں ممالک کے ٹیکس دہندگان کو دہرے ٹیکسوں سے نجات ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ ملے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








