پاکستان کا طالبان حکومت سے اہم دہشت گرد کمانڈر کی حوالگی کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

دفتر خارجہ نے دو روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں افغان شہری کی جانب سے سیکورٹی فورسز پر کیے جانے والے خودکش حملے پر افغان سفارت خانے کے نمائندے کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے نمائندے کو دفتر خارجہ طلب کیا اور 26 نومبر کو ضلع بنوں میں ایک افغان شہری کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کی شدید مذمت کی۔

کیا کراچی کے عوام کی کے الیکٹرک سے جان چھوٹنے والی ہے؟

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ بنوں میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے کی ذمہ داری حافظ گل بہادر گروپ نے قبول کی۔ افغان نمائندے سے بنوں حملے کے مرتکب افراد کے خلاف مکمل تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان نے تمام دہشت گرد گروہوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری طور پر قابل تصدیق کارروائیاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے سمیت حافظ گل بہادر کو پکڑ کر پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

واضح رہے کہ دو روز قبل افغان خودکش بمبار نے بنوں میں سیکورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں دو شہری شہید جبکہ تین جوانوں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اسرائیل پر اسرار سائبر حملوں کی زد میں آگیا

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا تھا 26 نومبر کو موٹرسائیکل سوار خود کش بمبارنے بنوں ضلع کے جنرل علاقے بکہ خیل میں سیکورٹی فورسز کے قافلے کے قریب خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں دو شہری شہید، سات زخمی اور تین فوجی بھی زخمی ہوئے۔ خود کش حملہ آور افغان شہری نکلا۔

بیان کے مطابق خود کش بمبار کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی جو حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ تھا۔ دہشت گرد کا نام رابن اللہ ولد خانور گل جبکہ اُس کا تذکرہ نمبر  08916164 ہے۔ رابن اللہ 26 نومبر کو افغان شناختی کارڈ پر پاکستان میں داخل ہوا۔

Related Posts