پاکستان کی افغان طالبان کے خلاف فوجی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے وضاحت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ آپریشنز روک دیے گئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاک فضائیہ اور ڈرون کی فوٹیج میڈیا کے ساتھ شیئر کرنے میں وقفہ قومی سلامتی اور آپریشنل حکمتِ عملی کے تحفظ کے لیے تھا، نہ کہ انسدادِ دہشت گردی مہم کو روکنے کے لیے۔ انہوں نے کہا، “آپریشنز بلا تعطل جاری ہیں”، اور مزید بتایا کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مکمل شدت اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔
🚨 فیک نیوز الرٹ 🚨
سوشل میڈیا پر یہ جھوٹی اور من گھڑت خبر پھیلائی جا رہی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف اپنی کارروائیاں روک دی ہیں۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر صرف عارضی طور پر پی اے ایف اور ڈرون فوٹیجز میڈیا کے ساتھ شیئر کرنا روکا گیا ہے۔ اس…
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) February 28, 2026
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضب للحق کی مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ 352 طالبان جنگجو ہلاک اور 535 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی افواج نے طالبان کی 130 چوکیاں تباہ کیں اور 26 پر قبضہ کر لیا، جبکہ 171 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں بھی تباہ کی گئیں۔
عطا اللہ تارڑ کے بیان کے مطابق پاکستان نے فضائی حملوں کے ذریعے افغانستان بھر میں 41 مقامات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، جو طالبان کے ڈھانچے کو کمزور کرنے اور علاقائی سلامتی برقرار رکھنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








