کراچی: ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ بی ایس انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی سندِ معادلہ (ایکویلنسی سرٹیفکیٹ)کی پالیسی کو ماننے سے انکار کردیا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ہزاروں بی ایس ٹیکنالوجسٹ اور بی ایس انجینئرز نے احتجاج شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انجینئرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی انجینئرنگ کو نصاب کا حصہ بنایا گیاہے اور اس کی ڈگری کو انجنیئر کی ڈگری کے مساوی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی)کی جانب سے پروفیشنل انجینئرز کو مساوی ڈگری جاری کرنے سے انکار کیا تھا، جس کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے پی ای سی کے بجائے وفاقی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس حوالے سے اتھارٹی قراردیا گیا تھا۔
8دسمبر کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ایک نوٹی فکیشن جاری کیا گیا جس کے مطابق 17نومبر کو ہائرایجوکیشن کمیشن میں ایکریڈیشن اور ایکویلنس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں بی ٹیک (آرنر) بی ایس انجنیئرنگ (بیچلر آف انجنیئرنگ) دونوں ڈگریوں کو بی ایس سی انجینئرنگ اور بی ای انجینئرنگ قراردیا گیا تھا۔
یہ بات بھی سامنے ہے کہ بی ٹیک (آرنر) بی ایس سی کے برابر نہیں ہو سکتی تاہم ملازمت،گریڈ، پروموشن وغیرہ کیلئے اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے،کیوں کہ بیچلر ڈگری برائے انجینئرنگ میں سالہ تعلیم شامل ہوتی ہے۔اس کے مساوی ڈگری بھی سولہ سالہ ہی ہوتی ہے۔
جس کے بعد 9دسمبر کو پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی)کے رجسٹرار انجینئر ڈاکٹر ناصر محمد خان نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو ایک تفصیلی خط جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ پی ای سی مکمل طور پر انجینئرز کے حوالے سے ایکٹ کے تحت قائم ادارہ ہے، پی ای سی یہ واضح کررہا ہے کہ انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی دو بالکل مختلف تعلیمی سسٹم ہیں، جس کی وجہ سے دونوں کا معادلہ نہیں دیا جاسکتا۔
پی ای سی نے اس لیٹر میں مزید لکھا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملازمت، پروموشن، گریڈ بڑھانے وغیرہ کیلئے معزز کیڈرزکے پیش نظر عالمی سطح پر دونوں کو یکساں تسلیم نہیں کیا جاتا اور ہم انہیں تسلیم کرلیں، جیسا کہ واشنگٹن،سٹڈنی میں انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی تعلیم وغیرہ، خط میں پی ای سی نے ایچ ای سی کو مزید لکھا ہے کہ ہائرایجوکیشن کمیشن کی دسویں میٹنگ میں معاملات طے ہو چکے تھے جس کے بعد دوبارہ اس پر ابہام کیوں پھیلایا جارہا ہے۔
ادھر17 دسمبر کو پاکستان انجینئرنگ کونسل کی جانب سے ایک لیٹر جاری کیا گیا جس میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کو بتایا گیا تھا کہ8دسمبر کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیٹر کے بعد وقت پر پی ای سی نے اپنا قانونی اور ادارہ جاتی موقف جمع کرادیا تھا۔
جس میں بتایا گیا تھا کہ پروفیشنل انجینئرزپی ای سی کے ایکٹ 1976کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں جس پرباقاعدہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے احکامات بھی موجود ہیں، لیٹر کے مطابق اس حوالے سے ہائر ایجوکیشن کمیشن فی الفور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ کوئی میٹنگ رکھے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جاسکے۔
پروفیشنل ایجوکیشن کے لئے کونسل کے بجائے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی حکومت کی جانب رولز وضع کئے جاتے ہیں،جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پی ای سی کو لکھا ہے کہ انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ بھی بی ایس سی کے مساوی ڈگری کے حامل ہیں جس کو پی ای سی نے ماننے سے انکار کردیا ہے۔
اس حوالے سے ینگ انجینئرنگ ٹیکنالوجسٹ ایسوسی ایشن کے سید صدر علی حسن شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں این ای ڈی، خیر پور یونیورسٹی، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی،یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور،اسلام آباد میں نیشنل اسکل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ،نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (نیوٹیک)سمیت دیگر کئی جامعات میں بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی کرائی جاتی ہے۔
بی ایس سی انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پہلی بار یوای ٹی لاہور نے 2009میں متعارف کرائی تھی،جس کے بعد بارہ برس سے یہی ڈگریاں چل رہی ہیں،جب کہ اب آکر پی ای سی نے اعتراض اٹھایا ہے۔
معلوم رہے کہ حکومت کوئی بھی ڈگری شروع کرتی ہے تو اسٹبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے اس ڈگری کے حوالے سے سروس اسٹریکچرکے خدوخال بتائے جاتے ہیں جس کے بعد ایچ ای سی اس پر وزارت تعلیم کو آگاہ بھی کرتی ہے، جس کے بعد ایچ ای سی اس پر متعلقہ کونسل کو ایکریڈیشن جاری کرنے سمیت دیگر ہدایات جاری کرتی ہیں۔
ادھر معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم، تاریخ اور لٹریچر نے ایک کمیٹی بھی قائم کی تھی، جس کے چیئرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی تھے، جس میں سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی اس معاملے کو سینیٹ میں اٹھایا تھا،جس کے بعد مذکورہ معاملہ ایچ ای سی کی معادلہ کمیٹی میں گیا تھا۔