اسلام آباد: پاکستان نے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
یہ حکومتی اقدام کرپٹو کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو ملکی معیشت میں باقاعدہ طور پر شامل کرنے اور اس کے لیے ایک موثر ضابطہ کار تشکیل دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کو ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے میدان میں نمایاں مقام دلانے کے عزم کا حصہ ہے جس میں سرمایہ کاروں کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
پاکستان کرپٹو کونسل کی سربراہی بلال بن ثاقب کریں گے جنہیں حال ہی میں ڈیجیٹل کرنسی پالیسی کے مشیر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔
بلال بن ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ کرپٹو کرنسی کے شعبے میں تحفظ، شفافیت اور جدت کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں کرپٹو کرنسی کے حوالے سے پالیسی ہمیشہ غیر یقینی کا شکار رہی ہے۔ ابتدا میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2018 میں کرپٹو کرنسی پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مالیاتی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ کرپٹو سے متعلق لین دین میں شامل نہ ہوں۔
وقت کے ساتھ ساتھ کرپٹو کرنسی میں عوامی دلچسپی میں اضافہ ہوا اور بائنانس، کوائن بیس اور دیگر کرپٹو پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد سرمایہ کاری کرنے لگی۔
گزشتہ برسوں میں، حکومت نے کرپٹو کرنسی کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دینے کے بجائے اس کے ضابطے اور نگرانی پر غور شروع کیا۔
اس ضمن میں ایف آئی اے اور اسٹیٹ بینک نے کئی تحقیقات بھی کیں تاکہ غیر قانونی طریقے سے ڈیجیٹل اثاثوں کی منتقلی اور منی لانڈرنگ کو روکا جا سکے۔
اب حکومت کی جانب سے کرپٹو کرنسی کے ضابطے کے لیے پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے، جو ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔
نئی کرپٹو کونسل بین الاقوامی کرپٹو اداروں کے ساتھ مل کر بہترین ضابطہ کار تشکیل دے گی تاکہ کرپٹو کرنسی کو ایک محفوظ اور قانونی دائرے میں شامل کیا جا سکے۔ اس اقدام کو پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








