پاکستان کا سفارتی سطح پر ایران کو کرارا جواب

تازہ ترین

تازہ ترین

پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو بلانے اور  ایرانی سفیر کو  ملک بدر کرنےکا اعلان کردیا۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں ایرانی حملے پر پاکستان نے اسلام آباد میں ایرانی سفیر کو  واپس جانےکا کہا ہے۔

 ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے تہران میں موجود اپنے سفیر کو بھی واپس بلالیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان سفارتی دوروں کو روکا جارہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے فیصلے سے ایرانی حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان میں میزائل اور ڈرون حملے کیےگئے تھے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نور نیوز کی خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی جانب سے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں جیش العدل نامی تنظیم کے دو ٹھکانوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔

وزارت خارجہ کے مطابق پاکستانی فضائی حدود میں ایرانی حملے کے نتیجے میں دو معصوم بچے جاں بحق اور تین بچیاں زخمی ہوئیں۔ آج دفتر خارجہ نے ایران کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا تھا۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، نتائج کی ذمہ داری پوری طرح سے ایران پر عائد ہوگی۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا  کہ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشت گردی خطےکے تمام ممالک کے لیے مشترکہ خطرہ ہے جس کے لیے مربوط کارروائی کی ضرورت ہے، اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں اچھے ہمسایہ تعلقات کے مطابق نہیں ہیں اور یہ دو طرفہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بات اور بھی تشویشناک ہےکہ پاکستان اور ایران کے درمیان رابطے کے متعدد چینلز موجود ہونے کے باوجود یہ غیرقانونی عمل ہوا ہے۔

دوسری طرف اس معاملے پر چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں ایران اور پاکستان سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فریقین سے کشیدگی میں اضافےکا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کا مطالبہ کرتے ہیں، امن و استحکام کو برقرار رکھنےکے لیے دونوں ملک مل کر کام کریں۔ 

Related Posts