پاکستان سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے کا مخالف کیوں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو: آن لائن)

نیو یارک: پاکستان نے عالمی سطح پر مسئلۂ کشمیر و فلسطین سمیت دیگر مسائل پر آواز بلند کرنے کے مؤثر ترین پلیٹ فارم سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کی تعداد میں اضافے کی مخالفت کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم نے اپنے حالیہ خطاب کے دوران کہا کہ سلامتی کونسل میں مستقل اراکین کی تعداد میں اضافہ اصلاحات کے بنیادی اصولوں اور مقاصد سے متصادم ہوگا۔

خطاب کے دوران مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ اقوامِ متحدہ چھوٹی اور درمیانی ریاستوں کو مساوی پیمانے پر سلامتی کونسل میں نمائندگی دے۔ اس وقت سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کا اختیار صرف 5 ممالک کو حاصل ہے۔

مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ صرف پانچ ممالک کو وسیع اختیارات دینا مایوس کن عمل ہے جس کا ازالہ اسی صورت میں ممکن ہے جب سلامتی کونسل میں چھوٹی اور متوسط ریاستیں زیادہ نمائندگی حاصل کرسکیں۔

رواں برس فروری کے دوران بھی پاکستان نے سلامتی کونسل میں نئے مستقل اراکین کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل نشستوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ سلامتی کونسل جیسے 15رکنی ادارے کی مفلوجیت کا باعث بنے گا۔

مخالفت کی وجوہات

سلامتی کونسل ہو یا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی، اقوامِ عالم نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے کتنی ہی مرتبہ دیکھا کہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں اور اسی قسم کے دیگر عالمی مسائل کے حل کیلئے آواز بلند کرنا بے سود ثابت ہوتا ہے۔

جب بھی سلامتی کونسل میں غزہ پر جاری اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی روک تھام کیلئے جنگ بندی کی بات کی جاتی ہے تو اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والا امریکا ایسی کسی بھی قرارداد کو بڑی آسانی سے ویٹو کردیتا ہے اور دیگر مستقل اراکین بھی خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھا سکتے۔

ایسے میں مستقل اراکین کی تعداد بڑھانا سلامتی کونسل میں مسائل کے حل ہونے کی جانب کوئی مثبت اقدام قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ویٹو کرنے والوں کی تعداد بڑھنے سے اختلافِ رائے بھی بڑھے گا اور کشمیر و فلسطین جیسے مسائل کا حل نکالنا مشکل سے ناممکن ہوتا چلا جائے گا۔

Related Posts