مسلسل بری اور منفی خبروں کے درمیان پاکستان کے حوالے سے یہ اچھی اور مثبت خبر سامنے آئی ہے کہ وطن عزیز پاکستان آلو پیدا کرنے والے ممالک میں 9 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یہ اعزاز آلو کی 80 لاکھ ٹن سے زیادہ پیداوار کے ساتھ اپنے نام کرلیا ہے۔ آلو کی پیداوار میں اس شاندار اضافے کی وجہ آلو کی بڑے پیمانے پر کاشت اور کاشتکاری کی بہتر تکنیک کا استعمال بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹ کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران پاکستان میں آلو کی پیداوار میں 35 فیصد سے زیادہ بہتری آئی ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ حالیہ سیزن میں 8 ملین ٹن سے زیادہ ایک اور بمپر فصل حاصل ہونے کی امید ہے۔
عالمی اعدادوشمار کے مطابق چین 95.6 ملین ٹن پیداوار کے ساتھ دنیا میں سب سے آگے ہے، اس کے بعد بھارت، یوکرین، روس اور امریکہ ہیں۔ پاکستان فرانس اور ہالینڈ سے آگے 9 ویں نمبر پر آگیا ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ آلو پاکستان میں گندم، چاول اور مکئی کے بعد ایک اہم نقد آور فصل بن چکا ہے، جس کی کاشت کے رقبے میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔
تاہم پاکستان کی فی ہیکٹر آلو کی اوسط پیداوار عالمی معیار کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔
پاکستان کی آلو کی پیداوار میں پنجاب کا حصہ 95 فیصد سے زیادہ ہے، جس میں قابل ذکر کاشت کے رقبے میں اضافہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








