پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ، فلائنگ آفیسر مریم مختار کی دسویں برسی آج 24 نومبر کو منائی جا رہی ہے،اس موقع پر ان کی قربانی، فرائض کی انجام دہی میں حاصل ہونے والی شہادت، اور قومی خدمت کے لیے ان کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
مریم مختار پاکستان کی پہلی خاتون ایئر فورس پائلٹ تھیں جنہوں نے شہادت حاصل کی۔
رپورٹس کے مطابق مریم مختار 24 نومبر 2015 کو ایف ٹی 7 پی جی طیارے میں ایک تربیتی مشن پر فلائٹ کر رہی تھیں جس کے دوران ایک شدید فضائی ہنگامی صورتحال پیش آئی۔ اس مشن میں ان کے ساتھ اسکواڈرن لیڈر ثاقب عباسی بھی موجود تھے۔
مریم مختار کا تعلق ایک فوجی خاندان سے تھا۔ وہ 18 مئی 1992 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مختار احمد شیخ پاکستان آرمی کے ریٹائرڈ کرنل تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کو مسلح افواج میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
ابتدائی تعلیم کے بعد مریم نے پاکستان ایئر فورس میں 132 جی ڈی پائلٹ کورس کے تحت فائٹر پائلٹ کی تربیت حاصل کی اور 2007 میں ایف ٹی 7 پی جی طیارے کے ساتھ بطور پائلٹ خدمات انجام دینا شروع کیں۔
مشن کے دوران ان کا طیارہ میانوالی میں خراب ہو گیا۔ اگرچہ مریم اور ان کے ساتھی پائلٹ طیارے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن مریم کو شدید چوٹیں آئیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں۔ مریم مختار کی قربانی پر 23 مارچ 2016 کو حکومت پاکستان نے تمغہء بسالت سے نوازا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








