3 ممالک سے ایکسپورٹ کے معاہدے! پاکستانی رکشے اب دنیا کے دیگر ممالک میں بھی نظر آئیں گے

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistani Company to Export Rickshaws to Three Countries
DAWN NEWS

لاہور: سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے تین پہیہ رکشے مزید تین بین الاقوامی منڈیوں میں ایکسپورٹ کرے گی جن میں فلپائن، میکسیکو اور افغانستان شامل ہیں۔

کمپنی کے مطابق یہ اقدام پاکستانی آٹو انڈسٹری کے لیے برآمدات کے نئے دروازے کھولے گا۔

کارپوریٹ بریفنگ میں کمپنی حکام نے بتایا کہ حالیہ سیلاب نے سپلائی آپریشنز پر خاطر خواہ اثر نہیں ڈالا۔ صرف اس وقت تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جب کراچی۔لاہور روڈ بند ہوا تاہم یہ صورتحال محدود مدت تک ہی رہی۔

فی الحال کمپنی چھ ماڈلز پیش کر رہی ہے جن میں چار ہیول ایچ 6 اور دو جولیون شامل ہیں۔

انتظامیہ نے وضاحت کی کہ چوتھی سہ ماہی میں کم منافع والے ماڈلز کی فروخت بڑھنے سے مارجن کم ہوا، تاہم یہ اب بھی انڈسٹری کے اوسط سے بہتر ہے۔

بڑھتی ہوئی بکنگز کے باعث گاڑیوں کی ترسیل کا وقت دو سے تین ماہ کے بجائے تین سے چار ماہ تک بڑھ گیا ہے۔

کمپنی نے اس کامیابی کا سہرا اپنی مارکیٹنگ ٹیم کو دیا جس نے الیکٹرک گاڑیوں پر عائد لیوی کو مؤثر انداز میں ہینڈل کیا۔

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کیلئے نادرا کی خصوصی سہولت کا اعلان

سازگار کی موجودہ چار پہیہ گاڑیوں کی یومیہ پیداواری صلاحیت 40 یونٹ ہے لیکن عملی طور پر یہ پیداوار 60 یونٹ تک پہنچ چکی ہے۔

بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر کمپنی نے یومیہ پیداواری گنجائش 100 سے 120 یونٹ تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے اور طلب برقرار رہنے کی صورت میں ڈبل شفٹ بھی شروع کرنے کا امکان ہے۔

حکومت کی گرین فیلڈ آٹو پالیسی کے تحت پٹرول اور ہائبرڈ ماڈلز کو جون 2026 تک سہولیات حاصل رہیں گی جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ ماڈلز اس میں شامل نہیں ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مراعات کے خاتمے کے بعد ممکنہ نقصان کو زیادہ فروخت اور نئے پلانٹ میں بہتر پیداواری استعداد سے پورا کیا جائے گا، جس میں 5 میگاواٹ کا سولر روف ٹاپ سسٹم بھی شامل ہوگا۔

آئندہ کے منصوبوں میں دو نئے ماڈلز ٹینک اور کینن الفا مارچ 2026 تک متعارف کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ان میں مکمل تیار شدہ (سی بی یو) ماڈل کی قیمت تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے ہوگی، جبکہ مقامی طور پر اسمبل شدہ (سی کے ڈی) ورژن کم قیمت پر دستیاب ہوگا۔

انتظامیہ نے مزید کہا کہ پانچ سال پرانی درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑیوں پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لگانے کے حالیہ فیصلے کا ان کے کاروبار پر کوئی بڑا اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ اقدام بنیادی طور پر سیڈان گاڑیوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں درآمدی دباؤ میں کمی متوقع ہے۔

Related Posts