جنگ بندی کے باوجود جنونی مودی سرکار کی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں، بھارت نے ایک اور پاکستانی سفارتکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار پر غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو آج باضابطہ طور پر بھارتی وزارت خارجہ میں طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔
پاکستانی ہائی کمیشن یا دفتر خارجہ کی جانب سے تاحال اس پیش رفت پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار متوقع ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت کی جانب سے پاکستانی سفارتی عملے کے خلاف ایسے اقدامات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جسے ماہرین دونوں ممالک کے تعلقات میں بڑھتی کشیدگی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
قبل ازیں 13 مئی کو بھی بھارت نے ایک پاکستانی سفارتکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
بعدازاں پاکستان نے بھی بھارتی جارحیت کے جواب میں اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کے ایک رکن کو ناپسندیدہ شخص قرار دے کر 24 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








