آسٹریلیا کی عدالت نے پاکستانی نژاد شخص کو دنیا بھر میں سیکڑوں لڑکیوں کو جنسی حرکات کرنے پر مجبور کرنے کے جرم میں 17 سال قید کی سزاء سنائی ہے۔
29 سالہ ملزم محمد زین العابدین رشید نے برطانیہ، امریکا، جاپان اور فرانس سمیت 20 ممالک کے 286 افراد کو بلیک میل کیا اور جنسی استحصال کے 119 الزامات کا اعتراف کیا۔
رپورٹس کے مطابق پرتھ کی عدالت کو بتایا گیا کہ زین العابدین کے زیادہ تر متاثرین کی عمریں 16 سال سے کم تھیں۔
آسٹریلوی حکام نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ میں جنسی بلیک میلنگ کے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔
آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق 15 سالہ امریکی انٹرنیٹ اسٹار کا روپ دھار کرزین العابدین اپنے اہداف سے بات چیت شروع کرتا اور پھر ان سے ان کی جنسی خواہشات کے بارے میں پوچھتا۔
اس کے بعد وہ ان کے اہل خانہ کو واضح پیغامات بھیجنے کی دھمکی دیتا جب تک کہ وہ کیمرے پر ذلت آمیز جنسی حرکات کو ریکارڈ نہ کریں۔ ان متاثرین کو اکثر خاندان کے پالتو جانوروں یا گھر کے دوسرے بچوں کے ساتھ یہ حرکتیں کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
27 اگست کو سزا سناتے وقت جج آمندا بروز نے کہا کہ ملزم کا جرم اس قدر سنگین تھا کہ ملک کے کسی بھی دوسرے کیس میں اسکی مثال نہیں ملتی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم آن لائن انسل کمیونٹیز کا حصہ تھا اور کئی مواقع پر دوسرے لوگوں کو مدعو کرتا تھا۔ اس نے تقریباً 98 لوگوں کے سامعین کے لیے بدسلوکی کو لائیو اسٹریم کیا۔
جن بچوں کو وہ بلیک میل کر رہا تھا انہوں نے اسے بتایا کہ وہ خودکشی کے خیالات رکھتے ہیں لیکن ملزم نے ان کی مشکل کو نظر انداز کر دیا۔
ملزم کو 2021 میں اس کے گھر پر پولیس کے چھاپے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ آسٹریلیا کی وفاقی پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے لیے انٹرپول اور امریکی حکام سے رابطہ کیا تھا۔
جس پر پتا چلا کہ ملزم پہلے ہی پرتھ کے ایک پارک میں اپنی کار میں 14 سالہ لڑکے کو دو بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔
ملزم نے 2018 میں بچوں کے استحصال کے مواد تک رسائی حاصل کرنا شروع کی، جو 2019 میں بچوں کے استحصال میں بدل گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








