لاہور میں پیدا ہونیوالی نادیہ علی دنیا کی مشہور پورن اسٹار کیسے بنی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistani-Origin Actress and the Rise of Pornography in Pakistan
ONLINE

پاکستان میں انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی آمد نے جہاں علم و معلومات کو عام کیا، وہیں فحاشی اور غیر اخلاقی مواد کے دروازے بھی کھول دیے۔

ماہرین کے مطابق انٹرنیٹ کے فروغ کے بعد پاکستان سمیت کئی اسلامی ممالک میں فحش ویڈیوز اور غیر اخلاقی ویب سائٹس تیزی سے پھیلیں جس سے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو شدید نقصان پہنچا۔

پاکستان میں انٹرنیٹ کے عام ہونے کے بعد نوے کی دہائی میں فحش مواد تک رسائی آسان ہوگئی اور رپورٹوں کے مطابق اس کے بعد لاکھوں پاکستانی نوجوان روزانہ کی بنیاد پر ان ویب سائٹس کا رخ کرنے لگے۔

ایسی ہی ایک کہانی ایک پاکستانی نژاد خاتون نادیہ علی کی بھی ہے، جو لاہور میں پیدا ہوئیں مگر بچپن میں ہی والدین کے ساتھ امریکا منتقل ہو گئیں۔

غربت اور بہتر مستقبل کے خواب کے ساتھ امریکا پہنچنے والے والدین نے اپنی بیٹی کے لیے اچھی تعلیم اور تربیت کا خواب دیکھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حالات نے رخ بدل دیا۔

نادیہ نے ابتدا میں بیوٹی پارلر میں ملازمت اختیار کی، مگر بعد ازاں کلبوں میں رقص کرنے لگیں اور پھر جلد ہی فحش فلموں کی دنیا میں داخل ہو گئیں۔

 

نادیہ علی نے 2015 میں باضابطہ طور پر فحش فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور صرف چند سالوں میں درجنوں فلموں میں کام کیا۔

ان کی سب سے بڑی شہرت یہ تھی کہ وہ کبھی روایتی مشرقی لباس اور کبھی اسلامی پردے جیسے حجاب اور دوپٹہ پہن کر ایسی ویڈیوز میں جلوہ گر ہوئیں جس نے نہ صرف پاکستانی بلکہ اسلامی اقدار کا بھی مذاق بنایا۔

نادیہ کے حوالے سے کئی متنازع خبریں بھی سامنے آئیں جن میں ایک یہ دعویٰ بھی شامل ہے کہ انہیں سابق امریکی صدر کی جانب سے پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے اس کی تردید کی۔

بعد ازاں ایک انٹرویو میں نادیہ علی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے فحش فلموں کی دنیا چھوڑ دی ہے اور اب وہ مذہب کی طرف واپس آ چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ نماز پڑھتی ہیں اور اپنے ماضی پر نادم ہیں لیکن پاکستانی عوام کی اکثریت کا خیال ہے کہ نادیہ نے اپنے والدین اور ملک کا نام جس طرح بدنام کیا، اس کی تلافی ممکن نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فحش ویب سائٹس پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود نوجوان بڑی تعداد میں مختلف ذرائع کے ذریعے ان تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان میں نوے لاکھ سے زائد افراد روزانہ کی بنیاد پر فحش ویڈیوز دیکھتے ہیں، جن میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔ بھارت میں بھی یہی رجحان شدت سے پایا جاتا ہے، جہاں روزانہ کروڑوں لوگ ایسی ویب سائٹس وزٹ کرتے ہیں۔

سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ فحاشی نہ صرف اخلاقیات کو مجروح کرتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی منفی اثرات ڈالتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کی طرف راغب کیا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو معاشرے کو اخلاقی بگاڑ سے بچا سکیں۔

Related Posts