عائشہ رشید، ایک 39 سالہ پاکستانی خاتون جو متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، دبئی کے ایک اپارٹمنٹ میں پناہ دیے گئے 65 بلیوں کو بچانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
ان کی پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی نے جانوروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے، بصورتِ دیگر انہیں 2 اکتوبر تک بے دخلی کا سامنا ہے۔
رشید کا یہ سفر کووڈ-19 لاک ڈاؤن کے دوران شروع ہوا جب انہوں نے آوارہ بلیوں کو کھلانا شروع کیا کیونکہ ان کی پرانی دیکھ بھال کرنے والی ملک چھوڑ کر جا چکی تھی۔
کچھ ماہ بعد جب وہ دیکھ بھال کرنے والی واپس آئی تو اس نے ذمہ داری سنبھالنے سے انکار کردیا، تب رشید اور ان کی والدہ نے بلیوں کی دیکھ بھال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
جو ایک عارضی نیکی تھی، وہ آہستہ آہستہ ایک بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن میں بدل گئی، جس نے ان کی ذاتی زندگی اور مالی حالت پر بھاری اثر ڈالا۔
جنرل اسمبلی اجلاس: حکومت کیلئے تنازع کا سبب بننے والی شمع جونیجو کون ہیں؟
عائشہ رشید ایک بیک آفس سروسز کمپنی کے آٹو لون ڈسبرسل ڈیپارٹمنٹ میں کام کرکے ماہانہ 7,000 درہم کماتی ہیں، مگر ان کی آمدنی کا بڑا حصہ بلیوں کی ضروریات پر خرچ ہو جاتا ہے۔
گزشتہ چھ سالوں میں انہوں نے تقریباً 150 بلیوں کی نس بندی پر خرچ کیا اور ہر ماہ 4,000 سے 5,000 درہم ویٹرنریئر اخراجات میں دینے پڑتے ہیں، ساتھ ساتھ کرایہ بھی ادا کرتی ہیں۔
جیسے جیسے ان کی شہرت پھیلی، مزید ترک شدہ بلیاں ان کے گھر کے قریب چھوڑ دی گئیں، جن میں سے کئی نابینا یا سنگین بیماریوں کا شکار تھیں۔
ان کی پناہ میں موجود کئی بلیوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔ کچھ کی آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں، کچھ جزوی نابینا ہیں اور حالیہ دنوں میں کار حادثوں سے دو بلیوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئی ہیں۔
ویٹرنری بل فی کیس 5,000 درہم تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ایک کلینک نے ان کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے قسطوں میں ادائیگی کی اجازت دی ہے۔
عائشہ کا خاندان بھی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کی والدہ خون کے کینسر سے لڑ رہی ہیں، اس سے پہلے وہ بریسٹ کینسر پر قابو پا چکی ہیں۔ ان کے والد کو سات سال ہوچکے ہیں ریٹائر ہوئے۔
ان کا بھائی گھر کے کرایے میں مدد کرتا ہے جبکہ رشید بلیوں کے اپارٹمنٹ کا سالانہ 31,000 درہم کرایہ ادا کرتی ہیں۔
پڑوسیوں کو پریشان ہونے سے بچانے کے لیے خاندان نے قریب ہی ایک دوسرا اپارٹمنٹ کرائے پر لیا ہے، جہاں وہ خود رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ آوارہ بلیوں کو باہر بھی کھلاتے ہیں۔
جرمانے اور بے دخلی کی دھمکی
پراپرٹی مینجمنٹ کمپنی نے عائشہ رشید پر اپارٹمنٹ میں بلیاں رکھنے کے الزام میں 8,000 درہم جرمانہ عائد کیا ہے۔
ان کے مطابق یہ جرمانہ صرف اسی صورت ختم ہوگا جب وہ بلیوں کو ہٹا دیں، ورنہ انہیں اپارٹمنٹ خالی کرنا ہوگا، حالانکہ انہوں نے دسمبر تک کا کرایہ پہلے ہی ادا کر رکھا ہے۔
جگہ کی کمی کی وجہ سے بلیوں میں لڑائیاں اور رویے کی خرابیوں کا بھی سامنا ہے۔
عائشہ رشید کی مدد کی اپیل
ڈیڈ لائن میں چند دن باقی رہ گئے ہیں اور عائشہ رشید حکام، جانوروں کے شوقین افراد اور شیلٹرز سے مدد کی اپیل کر رہی ہیں۔
وہ امید رکھتی ہیں کہ بلیوں کو کسی ولا یا فارم ہاؤس میں منتقل کرسکیں جہاں وہ محفوظ رہ سکیں۔
عائشہ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی آوارہ بلیاں گود نہیں لینا چاہتا، سب کو خالص نسل کی بلیاں چاہئیں۔ مگر ہم انسان ہیں اور ہمیں ان کا خیال رکھنا ہے۔ چاہے میں خود جدوجہد کر رہی ہوں، لیکن جب کسی ترک شدہ بلی کو دیکھتی ہوں تو میرے آنسو نکل آتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








