پاکستان کرپٹو کونسل نے باضابطہ کرپٹو لائسنس جاری کرنے کے امکان کا عندیہ دیا ہے جو ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کو دیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام سے ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت کے عمل کو زیادہ منظم بنانے کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں نمایاں بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جس میں پی سی سی کے سی ای او بلال صقیب، ای سی اے پی کے صدر ظفر پراچہ اور دیگر متعلقہ حکام شریک تھے ایکسچینج ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک محمد بوستان نے اس شعبے کو باضابطہ بنانے کے معاشی فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
اجلاس کے دوران بوستان نے موقف اختیار کیا کہ اگر ایک مستحکم ڈیجیٹل کرنسی نظام قائم کیا جائے تو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ترسیلات زر فوری طور پر منتقل کرنا ممکن ہو جائے گا جس کے نتیجے میں سالانہ ترسیلات کا حجم موجودہ 38 ارب ڈالر سے بڑھ کر 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
کونسل نے اپنی حالیہ قانونی حیثیت کو بھی اجاگر کیا اور اس کامیابی کا سہرا اپنی نوجوان قیادت کو دیا۔ اسی پیش رفت کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان نے یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ بینکوں میں کرپٹو ٹریڈنگ اکاؤنٹس کھول سکتے ہیں بشرطیکہ وہ کونسل سے این او سی حاصل کریں۔
بتایا گیا کہ اس وقت تقریباً 4 کروڑ پاکستانی غیر رسمی ذرائع کے ذریعے کرپٹو کرنسی میں لین دین کر رہے ہیں جہاں انہیں 5 سے 6 فیصد تک ٹرانزیکشن فیس ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکام کے مطابق اگر ڈیجیٹل لائسنسنگ نظام متعارف کروا دیا جائے تو یہ فیس کم ہو کر تقریباً 1 فیصد رہ جائے گی جس سے یہ شعبہ عام صارفین کے لیے زیادہ سستا اور قابل رسائی بن جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








