آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے انکشاف کیا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں نے وفاقی حکومت سے مجموعی طور پر 82.5 ارب روپے کی سبسڈی کی درخواست کی ہے۔ کمپنیوں کا موقف ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث انہیں مالی دباؤ کا سامنا ہے جس کی تلافی سرکاری سبسڈی کی صورت میں کی جانی چاہیے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے او ایم سیز کی جانب سے پیش کی جانے والی مبینہ غلط اور مشکوک دعوؤں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوامی وسائل کے ممکنہ غلط استعمال کو روکا جا سکے خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک پہلے ہی مہنگی ایندھن قیمتوں کے دباؤ کا شکار ہے۔
سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کابینہ سیکرٹریٹ، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔
اجلاس کے دوران اوگرا حکام نے آگاہ کیا کہ عوامی پیسوں کے غلط استعمال یا مشکوک سبسڈی دعوؤں کی صورت میں معاملہ وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سپرد کیا جائے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ زیر التوا سبسڈی کلیمز کو آئندہ تین سے چار ہفتوں میں حتمی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ 82.5 ارب روپے کی سبسڈی کی درخواست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ زیادہ تر مشرق وسطیٰ میں جیو پولیٹیکل کشیدگی اور عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے جس کا براہ راست بوجھ صارفین پر پڑ رہا ہے۔
او ایم سیز کا موقف ہے کہ حکومت کو پرائس ڈیفرینشل کی مد میں ان کے نقصانات پورے کرنے چاہئیں کیونکہ وہ عالمی قیمت اور مقامی ریٹ کے درمیان فرق برداشت کرتے ہیں تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے اکثر جغرافیائی اور عالمی بحران کا بوجھ براہ راست عوام پر ڈال دیا جاتا ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ان دعوؤں کی سخت جانچ پڑتال نہ کی گئی تو سبسڈی کا بوجھ بالآخر عوام پر ہی پڑے گا، جو بالواسطہ ٹیکس کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اس کا اثر نہ صرف پیٹرول کی قیمتوں بلکہ ٹرانسپورٹ کرایوں اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔
ماضی کی آڈٹ رپورٹس میں بھی آئل سیکٹر میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں اور اضافی ادائیگیوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ ریگولیٹری نظام میں کمزوریاں موجود ہیں جو شفافیت کو متاثر کرتی ہیں۔
سینیٹ کمیٹی کی جانب سے جعلی دعوؤں کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کچھ سبسڈی درخواستیں غیر حقیقی یا بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہوسکتی ہیں۔ اگر سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے تو اس کا دائرہ کار کمپنیوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ سرکاری افسران تک بھی جا سکتا ہے تاہم عوام فوری ریلیف کے منتظر ہیں جو فی الحال نظر نہیں آ رہا۔
عام صارفین کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہے کیونکہ وہ پہلے ہی عالمی بحران کے باعث بلند قیمتیں ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ سرکاری خزانے پر اضافی اور ممکنہ طور پر غیر ضروری بوجھ ڈال دیا جائے گا۔ اس پورے معاملے نے عوامی اعتماد اور نظام کی شفافیت پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








