پاکستان کی اسٹیل انڈسٹری، جو ملکی معیشت کیلئے ایک اہم اور اسٹریٹجک ستون سمجھی جاتی ہے اس وقت شدید بحران کا شکار ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آمدن میں کمی کے خدشات بڑھا دیئے ہیں بلکہ روزگار کے مواقع بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان ایسوسی ایشن آف لارج اسٹیل پروڈیوسرز کے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا لانگ اسٹیل سیکٹر اس وقت طلب میں کمی، بھاری ٹیکسوں کے بوجھ اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں جیسے عوامل کے باعث شدید دباؤ میں ہے جس نے اسے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔
یہ شعبہ سالانہ تقریباً 150 ارب روپے کی آمدن پیدا کرتا ہے اور براہِ راست طور پر تقریباً 2 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے جبکہ بالواسطہ طور پر لاکھوں مزید افراد کا روزگار بھی اسی صنعت سے جڑا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسٹیل سیکٹر ملکی معیشت کی مجموعی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اس صنعت کا معاشی اثر بہت وسیع ہے کیونکہ یہاں خرچ ہونے والا ہر ایک ڈالر معیشت میں اضافی 2.50 ڈالر کی قدر پیدا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ شعبہ تقریباً 45 ذیلی صنعتوں سے منسلک ہے جن میں تعمیرات اور مینوفیکچرنگ جیسے بڑے شعبے شامل ہیں جو صنعتی ترقی میں اس کی اہمیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔
اس کی معاشی اہمیت اور ممکنہ صلاحیت کے باوجود اس وقت اسٹیل انڈسٹری اپنی مکمل پیداواری گنجائش سے کافی کم سطح پر کام کر رہی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ شعبہ کس قدر سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








