پاکستان کے پہلے ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ، معروف پہلوان دین محمد انتقال کر گئے۔ انہوں نے 1954 کے منیلا گیمز میں پاکستان کا پرچم بلند کیا، جو ملکی کھیل تاریخ کا سنہری باب ہے۔
لاہور کے نواحی علاقے باٹا پور سے تعلق رکھنے والے یہ لیجنڈ اپنے 100 سال سے زائد عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے منیلا میں فلپائن، بھارت اور جاپان کے ماہر پہلوانوں کو شکست دے کر پاکستان کا نام روشن کیا۔

ایشین گیمز کامیابی کے علاوہ، دین محمد نے کامن ویلتھ گیمز میں بھی ملک کے لیے برونز میڈل جیت کر پاکستان کی پہچان بڑھائی۔
اس تاریخ ساز اعزاز کے باوجود پہلوان دین محمد نے اپنی زندگی میں گمنامی اور مالی مشکلات کا سامنا کیا تاہم بعد میں حکومت نے ان کے اعزاز میں وظیفہ بحال کیا اور مالی معاونت فراہم کی۔
دین محمد کی وفات ایک سنہرے دور کا اختتام ہے، وہ نہ صرف پاکستان کے لیے کھیلوں میں سنہری دور کی علامت تھے بلکہ انہوں نے سبز ہلالی پرچم کو عالمی میدان پر بلند کیا۔
ان کی زندگی ہمیں قوم کے ماضی کے قومی ہیروز کی خدمات کو پہچاننے اور سرکاری تسلیمات کو جیتے جاگتے ہیروز تک پہنچانے کی اہمیت یاد دلاتی ہے۔
صوبائی وزیر کھیل ملک فیصل ایوب کھوکھر اور ڈی جی اسپورٹس پنجاب خضر افضال چوہدری نے بابا دین محمد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
صوبائی وزیر کھیل نے کہا کہ ریسلر دین محمد کی ملک کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور انہوں نے ریسلنگ میں پاکستان کا پرچم بلند کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








