ہاتھ سے بنائی گئی پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ فلم نمائش کیلئے پیش

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو بی بی سی

ہاتھ سے تیار کردہ پاکستان کی سب سے پہلی اینی میٹڈ فلم “دی گلاس ورکر” ملک بھر میں نمائش کے لیے پیش کر دی گئی۔ اس فلم کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ دس سال کے عرصے میں مکمل ہوئی ہے۔

فلم کے تخلیق کار عثمان ریاض نے فلم کے ہر فریم کو ہاتھ سے بنایا اور کہانی کی شکل دی ہے جو 1,477 کٹس اور 2,500 انفرادی ڈرائنگ پر مشتمل ہے جس میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی بچپن سے بالغ ہونے کی کہانی پیش کی گئی ہے۔

العربیہ کے مطابق نوجوان ونسنٹ جو اپنے والد کی شیشے کی ورکشاپ میں شاگرد ہے اور باصلاحیت وائلن نواز اور ایک فوجی کرنل کی بیٹی ایلز۔ ارد گرد ایک جنگ سے ان کی زندگیاں تباہ ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور بچوں اور والدین کے درمیان تعلقات کی آزمائش ہوتی ہے۔

عثمان ریاض نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ “10 سال کے جنون کے بعد یہ کام مکمل ہوا۔” انہوں نے کہا کہ یہ فلم پاکستان، ملائیشیا، کینیڈا، جنوبی افریقہ، امریکہ اور برطانیہ کے تخلیق کاروں کی کاوش ہے۔

“فلم کی تیاری میں چار سال لیکن اس پورے سفر میں 10 سال لگے۔ جب میں نے شروع کیا تو 23 سال کا تھا اور اب میں 33 سال کا ہوں۔”

“پہلے سال صرف میں اکیلا ڈرائنگ کر رہا تھا۔ میں رات بھر جاگ کر کرداروں کے لیے اور سٹوری بورڈز پر اپنے تصورات کی خاکہ نگاری کرتا۔ میں اسے بخوبی کرنا اور اینیمیشن کی باقی دنیا کے سامنے کچھ ایسا پیش کرنا چاہتا تھا جسے ہم فخر سے کہہ سکیں کہ پاکستان میں بنایا گیا۔”

ریاض اینی میٹڈ فلموں کے جنون کے ساتھ بڑے ہوئے اور بتایا کہ وہ اس وقت سے ڈرائنگ کر رہے تھے جب سے انہوں نے پنسل پکڑنا سیکھا۔ وہ مشہور جاپانی اینی میشن کمپنی سٹوڈیو گیبلی کی کیکی’ز ڈیلیوری سروس، پورکو روسو اور پرنسس مونونوک جیسی فلمیں دیکھنے میں طویل وقت گزارتے تھے۔

2012 میں 21 سال کی عمر تک وہ پرکیوسیو گٹار میں ایک ماہر سمجھے جاتے تھے اور اس سال انہیں ٹیڈ فیلو کے طور پر ٹیڈ گلوبل میں بطور سپیکر شرکت کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹیڈ فیلوز پروگرام میں دنیا بھر سے نوجوان اختراع کاروں کو اپنے کام کے بارے میں بین الاقوامی شعور میں اضافہ کرنے اور ان کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔

اگلے سال ریاض کو ایک سینئر ٹیڈ فیلو کے طور پر منتخب کیا گیا اور اس کے بعد سے وہ جاپان، ہندوستان، ملائیشیا، کوسٹا ریکا، ترکی، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں ٹیڈ اور ٹیڈ ایکس کانفرنسوں میں خطاب کر چکے ہیں۔

2015 میں جاپانی اینیمیشن سے اپنی محبت کے بارے میں ٹیڈ ایکس ٹوکیو میں گفتگو کرنے کے نتیجے میں ریاض کو سٹوڈیو گیبلی کے دورے کی دعوت ملی جہاں انہوں نے اپنے ہیروز کے ساتھ اپنے کام کا اشتراک کیا اور انہیں کچھ ایسا بنانے کا مشورہ دیا گیا جو واقعی اس کا اپنا ہو۔

2017 میں برکلے کالج آف میوزک میں مکمل اسکالرشپ پر موسیقی کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد عثمان ریاض پاکستان واپس آئے اور اب اپنی اہلیہ مریم پراچہ اور

کزن خضر ریاض کے ساتھ مل کر ملک میں ہاتھ سے تیار کردہ اینی میشن کی اولین سہولت مانو اینیمیشن اسٹوڈیوز کی مشترکہ بنیاد رکھی۔ خضر ریاض اس کے سی ای او ہیں۔

مانو اسٹوڈیو کیسے وجود میں آیا، اس کے بارے میں ریاض نے 2016 میں ٹیڈ کے لیے ایک مضمون میں لکھا، “میں نے محسوس کیا کہ مجھ جیسے کئی لوگ ہوں گے جو اینیمیشن سے محبت کرتے تھے لیکن خود کام کرتے تھے۔ اگر میں ان میں سے بعض فنکاروں کو ایک چھت کے نیچے لاؤں تو؟”

میں نے ہم خیال فنکاروں، ماہرینِ تعمیرات، اینیمیٹرز اور ویڈیو گیم ڈیزائنرز کو آن لائن تلاش کیا اور آرٹ سکولوں میں ورکشاپس منعقد کرکے اس بات کی تشہیر کی کہ میں کیا حاصل کرنا چاہتا تھا۔ میں برطانیہ، جنوبی افریقہ، ملائیشیا اور یقیناً پاکستان سے ناقابلِ یقین حد تک باصلاحیت پیشہ ور افراد کی ایک چھوٹی ٹیم کو جمع کرنے میں کامیاب رہا۔”

“میں نے اسٹوڈیو کے لیے مانو نام کا انتخاب کیا کیونکہ یہ میری پہلی بلی کا نام تھا لیکن مجھے بعد میں پتہ چلا کہ ہسپانوی میں اس کا مطلب ہے “ہاتھ” – ایک ایسے اسٹوڈیو کے لیے یہ نام بہترین ہے جو ہاتھ سے اینیمیشن بنائے گا۔”

Related Posts