فچ ریٹنگز نے پاکستان کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اس کی طویل مدتی غیر ملکی کرنسی میں قرض کی درجہ بندی بی مائنس پر برقرار رکھی ہے اور کہا ہے کہ ملک کے معاشی حالات کا مستقبل مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز جو دنیا کی تین بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں میں شمار ہوتی ہے نے کہا ہے کہ پاکستان کی ریٹنگ برقرار رکھنے کی بنیادی وجہ مالی نظم و ضبط میں بہتری اور معاشی استحکام کے اقدامات ہیں، جو مجموعی طور پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں اور ملک کی مالی معاونت کی صلاحیت کو سہارا دے رہے ہیں۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ممکنہ معاشی اثرات کو کچھ حد تک کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا جنگ بندی میں ثالثی کا کردار بھی کچھ عملی فوائد فراہم کر سکتا ہے اور بیرونی دباؤ کو جزوی طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم فچ نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے خاص طور پر اس صورت میں جب اس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے۔
ریٹنگ کے اہم عوامل بیان کرتے ہوئے فچ نے کہا کہ مارچ میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کیا جس کے تحت 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت جاری ہوئی۔
ایجنسی کے مطابق یہ پروگرام آئندہ بھی پالیسی سازی کے لیے ایک بنیادی فریم ورک کے طور پر کام کرتا رہے گا خاص طور پر مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے اور یہ مزید کثیرالجہتی و دوطرفہ مالی تعاون کو بھی فروغ دینے میں مدد دے گا۔
فچ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان توانائی کے بیرونی جھٹکوں کے حوالے سے حساس ملک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی 90 فیصد تک تیل کی ضروریات خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے اور محدود ذخیرہ گاہوں کی وجہ سے اسے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مارچ کے آغاز سے دی جانے والی ایندھن سبسڈی کو بجٹ کے دیگر حصوں سے رقم منتقل کر کے پورا کیا جا رہا ہے جبکہ قیمتوں میں اضافے اور اپریل سے متعارف کرائی گئی ہدف شدہ امدادی اسکیم کے باعث مجموعی لاگت میں کمی لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








