پاکستان کی مٹی مر رہی ہے، زراعت کو شدید خطرات، ماہرین کا انتباہ

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

پاکستان میں زمین کی زرخیزی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ کیمیائی کھادوں کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔

سندھ زرعی یونیورسٹی میں منعقدہ ایک سیمینار میں مقامی اور غیر ملکی سائنسدانوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ زمین کو سنگین نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ نقصان دہ کیمیائی کھادوں کے بجائے نامیاتی کھادیں اور کمپوسٹ استعمال کریں۔

گزشتہ مہینے آنے والے سیلابوں نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا۔ کھیتوں پر ریت اور کیچڑ کی موٹی تہہ جم گئی، زرخیز مٹی بہہ گئی، اور پانی دیر تک زمین پر ٹھہرا رہا، جس سے مٹی کے اندر موجود مفید جراثیم مر گئے۔

فیصل آباد کے ڈاکٹر بابر شہباز نے بتایا کہ کسان زمین میں کھاد ڈالنے سے پہلے مٹی کا تجزیہ نہیں کراتے، اور بہت سے کسان فصل کی باقیات کو جلا دیتے ہیں، جس سے زمین کے اہم غذائی اجزا ختم ہو جاتے ہیں اور فائدہ مند بیکٹیریا بھی مر جاتے ہیں۔

ان کے مطابق گندم اور چاول جیسی فصلیں زمین سے غذائیت کھینچ لیتی ہیں، اور اگر فصلوں کی تبدیلی (rotation) نہ کی جائے تو زمین توازن کھو دیتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نقصان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ناقص آبپاشی، زمین میں نمکیات کا اضافہ، پانی کا ٹھہراؤ اور غیر سائنسی کھیتی باڑی کے طریقے بھی مٹی کو بگاڑ رہے ہیں۔ سندھ میں اس وقت 20 لاکھ ہیکٹر سے زائد زمین نمکیات کے اثرات سے متاثر ہے۔

ماہرین کے مطابق مٹی کے خراب ہونے سے پاکستان ہر سال اپنی زرعی آمدنی کا تقریباً 2 فیصد کھو دیتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

تاہم حل موجود ہیں، کمپوسٹ استعمال کریں، فصلوں کی تبدیلی کو اپنائیں، پانی کم استعمال کریں اور جدید آبپاشی کے آلات اختیار کریں۔

Related Posts