جنوبی کوریا سے تعلق رکھنے والی میڈیا کی طالبہ مینا سو چوئی نے مس ارتھ 2022 بن گئیں۔ 29 نومبر کی شام فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ’’مس ارتھ 2022 ‘‘ کے مقابلے کی تقریب میں دنیا کی 86 حسیناؤں نے شرکت کی۔
کولمبیا کی اینڈریا ایگیلیرا نے ’’مس ارتھ فائر‘‘ کا ٹائٹل اپنے نام کیا اور آسٹریلیا کی شیریڈن مورٹلاک نے ’’مس ارتھ ایئر‘‘ کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔
اس سال مقابلہ کی خاص بات یہ تھی کہ اس مقابلہ میں پہلی مرتبہ ریاست فلسطین کی حسینہ نادین ایوب نے نہ صرف حصہ لیا بلکہ ’’مس ارتھ واٹر‘‘ کا تاج بھی سر پر سجانے میں کامیاب ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:
ٹی 20ویمن کرکٹ ٹورنامنٹ کا دوسرا مرحلہ کل سے شروع، فاتح ٹیم کو10لاکھ ملیں گے
اس مقابلے کو ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے منعقد کیا جاتا ہے۔ یہ مسابقہ دنیا میں خوبصورتی کے چار بڑے مقابلوں میں سے ایک ہے۔ دنیا میں خوبصورتی کے یہ چار بڑے مقابلے مس ورلڈ، مس یونیورس، مس انٹرنیشنل اور مس ارتھ ہیں۔ اس مقابلہ کا آغاز 2001 میں کیا گیا تھا اور اس کے زیادہ تر انعقاد فلپائن میں ہی کیا جاتا ہے، تاہم ویانا اور بالی بھی اس عالمی مقابلے کی میزبانی کر چکے ہیں۔ 2020 اور 2021 میں مس ارتھ کا مقابلہ کورونا وبا کے باعث فرضی طور پر منعقد کیا گیا تھا۔
اس سال ’’مس ارتھ‘‘ مقابلہ میں دو عرب ملکوں کی حسینائیں حصہ لے رہی تھیں، فلسطین کی نادین کے علاوہ جیہان ماجد عراق کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ فلسطینی حسینہ نادین ایوب ایک فٹنس ٹرینر، نیوٹریشن کنسلٹنٹ اور کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ ٹائٹل جیتنے کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ امیدواروں میں سے ایک تھی۔
مقابلہ کے آخری مرحلے میں پہنچنے والی چار حسیناؤں سے جو آخری سوال پوچھا گیا وہ یہ تھا کہ “اس دنیا میں کون سی ایسی چیز ہے جسے آپ درست کرنا چاہتے ہیں اور آپ اسے تبدیل کرنے کے لیے کیسے کام کرتے ہیں ؟” نادین ایوب نے جواب دیا میں لوگوں کی جہالت اور خود غرضی کا مقابلہ کرنا چاہوں گی، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ یہ وہ بنیادی مسئلہ ہے جس کا آج ہمیں مختلف شعبوں میں سامنا ہے، دیگر مسائل میں انسانی ساختہ ماحولیاتی آفات بھی ہے۔ جہالت اور خودغرضی کا حل تعلیم سے شروع ہوتا ہے، تعلیم کے طریقہ سے ہم اس مسئلہ سے دنیا کو بچا سکتے ہیں۔
مس ارتھ مقابلے کا مقصد ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دینا ہے، اسی لسے جیتنے والے اپنا سال مخصوص ماحولیاتی منصوبوں کو فروغ دینے کے لیے وقف کرتے ہیں۔ جیتنے والے مس ارتھ فاؤنڈیشن اور اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ترجمان بن گئے ہیں اور ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کے ساتھ کام کرنے کے لیے بھی پرعزم ہیں تاکہ جانوروں کی زندگی کی دیکھ بھال کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جاسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








