خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کا یومِ پیدائش آج منایا جارہا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

پروین شاکر
(فوٹو: آن لائن)

پروین شاکر کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے 31سال کا طویل عرصہ گزرا جبکہ آج مداح عہد ساز شاعرہ کا 73واں یومِ پیدائش منا رہے ہیں۔پروین شاکر کی اچانک وفات نے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو بھی طویل عرصے تک افسردہ کیے رکھا۔

تفصیلات کے مطابق پروین شاکر نے  24 نومبر 1952ء کو کراچی میں جنم لیا جبکہ لازوال شاعری کرنے والی پروین شاکر کا پہلا مجموعہ خوشبو شاعری کے میدان میں ان کی پہلی پہچان بنا جس کے درجنوں اشعار آج بھی زباں زدِ عام  ہیں۔

یہی نہیں، بلکہ آج سے 49سال قبل خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کا پہلا مجموعہ 1976ء میں شائع ہو کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچا تو ملک بھر میں ان کے حسنِ بیان کی دھوم مچ گئی جس کے بعد ماہِ تمام، خود کلامی اور انکار جیسے مجموعوں نے بھی یکے بعد دیگرے خوب شہرت پائی۔

محسوس ایسا ہوتا ہے کہ خوشبو کی شاعرہ پروین شاکر کو موت سے قبل ہی اپنے اچانک خالقِ حقیقی سے جا ملنے کا علم ہوچکا تھا، جس کی گواہی ان کے اشعار میں دیکھی جاسکتی ہے، خصوصاً یہ شعر:

مر بھی  جاؤں تو کہاں لوگ بھُلا ہی دیں گے

لفظ میرے مِرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر کی شاعری میں سب سے جداگانہ چیز اس کی انفرادیت، نسائیت کو فخر کے ساتھ بیان کرنا اور قسمت کے ساتھ سمجھوتے کو بھی ایک لازوال تمثیل بنا دینا ہے:

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے

یہی کیا  کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے؟

بزمِ انجم میں قبا خاک کی پہنی میں  نے

اور مِری ساری فضیلت اِسی پوشاک سے ہے

خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے

وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے

ہاتھ تو کاٹ دئیے کوزہ گروں کے ہم نے

معجزے کی وہی اُمید مگر چاک سے ہے

جدید شاعری کے استعارے اور ترقی پسند شعراء کی طرح شعر کو مہارت کے ساتھ کہنا بھی پروین شاکر کی ایک اہم خوبی رہی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا:

عقب  میں گہرا سمندر ہے، سامنے جنگل

کس انتہا پہ مِرا مہربان چھوڑ گیا؟

عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے

جو گر گئی تو یونہی نیم جان چھوڑ گیا

دلچسپ طور پر شاعری کے ساتھ ساتھ شعبۂ تدریس اور سول سروس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی پروین شاکر کا طرۂ امتیاز صرف اور صرف اُردو شاعری بنی جو ہر دور میں انہیں زندہ رکھے گی۔

حکومتِ پاکستان نے پروین شاکر کی شعبۂ ادب میں خدمات کے اعتراف میں انہیں 1990ء میں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور آدم جی ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا۔

ہر سال پروین شاکر کا یومِ پیدائش منایا جاتا ہے اور خوشبو کی شاعرہ کو خراجِ تحسین پیش کیاجاتا ہے۔ معروف شاعرہ پروین شاکر نے شاعری کے علاوہ بطور میزبان ٹی وی پر مختلف انٹرویوز بھی کیے اور اپنی گفتگو سے مداحوں کے دل جیتے۔

شاعری کے ابتدائی دور میں معروف قلمکار اور نامور شاعر احمد ندیم قاسمی نے پروین شاکر کی شعر گوئی کی صلاحیت کونکھارنے میں ان کی مدد کی۔ تکنیکی اعتبار سے پروین شاکر کو نئے لب و لہجے کی تازہ بیان شاعرہ سمجھا جاتا ہے جو ادب کیلئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ثابت ہوئیں اور اپنے ہر شعر کو امر کر گئیں۔

تکنیکی اعتبار سے پروین شاکر کی شاعری نہ تو آہ و زاری والی روایتی عشقیہ شاعری سمجھی جاسکتی ہے اور نہ ہی کھل کھیلنے والی رومانوی شاعری بلکہ جذبے اور احساس کی شدت کا سادہ لیکن فنکارانہ اور پرکار بیان پروین شاکر کی شاعری کا خاصہ رہا، جس نے ہر دردمند دل کو محظوظ کیا۔

متعدد گلوکاروں نے پروین شاکر کی زندگی میں ہی ان کی غزلیں گا کر عوام سے داد سمیٹی جس میں خاص طور پر پروین شاکر کی غزل کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی، بے حد مشہور ہوئی۔ اس کے علاوہ دیگر غزلوں کو بھی پذیرائی ملی۔

بدقسمتی سے پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو ایک کار ایکسیڈنٹ کے باعث اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں اور زبان و ادب پر ان کی غزلوں اور نظموں کی صورت میں کیے گئے احسانات آج بھی ان کے مداحوں کو ازبر ہیں جو اس شاعرہ کو ان کی یادوں میں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

Related Posts