اسلام آباد: اردو کی نامور شاعرہ پروین شاکر کی 31ویں برسی آج منائی جارہی ہے، اس موقعے پر مداحوں نے دھیمے لہجے کی شاعرہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
تفصیلات کے مطابق پروین شاکر آج سے 31سال قبل 26دسمبر 1994 کو ایک حادثے میں خالقِ حقیقی سے جا ملیں، ان کی اچانک وفات کے باعث ملک بھر کے ادبی حلقے سوگوار ہوگئے تھے۔ کراچی میں پروین شاکر کی پیدائش 24نومبر 1952 کو ہوئی تھی۔
بطور شاعرہ پروین شاکر کا پہلا مجموعہ خوشبو شاعری کے میدان میں ان کی پہلی پہچان کہلایا، جس کے درجنوں اشعار آج بھی مداحوں کو یاد ہیں۔ ملک بھر میں پروین شاکر کے حسنِ بیان کی دھوم اس وقت مچی جب خوشبو 1976میں شائع ہوکر پڑھنے والوں تک پہنچا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی نکھار آتا گیا اور پروین شاکر ایک منجھی ہوئی ترقی پسند شاعرہ کہلائیں جس کے اندازِ بیان نے نوجوان نسل کے ساتھ ساتھ شاعری کے سنجیدہ قارئین کو بھی ہر سطح پر متأثر کیا اور انہوں نے پروین شاکر کے اشعار کی کھل کر داد دی۔
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھُلا ہی دیں گے
لفظ میرے مِرے ہونے کی گواہی دیں گے
ان کی شاعری میں ایک الگ اور منفرد اندازِ بیان اور اس کے ساتھ ساتھ زندگی کی تلخ حقیقوں کا احساس بھی نظر آتا ہے:
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے؟
بزمِ انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مِری ساری فضیلت اِسی پوشاک سے ہے
خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے
ہاتھ تو کاٹ دئیے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی اُمید مگر چاک سے ہے
روایتی شاعری کے موضوعات بشمول عشق، بے وفائی اور ہجر و وصال کے ساتھ ساتھ جدید شاعری کے استعارے اور اندازِ بیان بھی پروین شاکر کا خاص ہتھیار ثابت ہوئے:
عقب میں گہرا سمندر ہے، سامنے جنگل
کس انتہا پہ مِرا مہربان چھوڑ گیا؟
عقاب کو تھی غرض فاختہ پکڑنے سے
جو گر گئی تو یونہی نیم جان چھوڑ گیا
شاعری کے ساتھ ساتھ شعبۂ تدریس اور سول سروس میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی پروین شاکر کا طرۂ امتیاز صرف اور صرف اُردو شاعری بنی جو ہر دور میں انہیں زندہ رکھے گی۔
حکومتِ پاکستان نے پروین شاکر کی شعبۂ ادب میں خدمات کے اعتراف میں انہیں 1990ء میں تمغۂ حسنِ کارکردگی اور آدم جی ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا۔
پروین شاکر 26 دسمبر 1994 کو ایک کار ایکسیڈنٹ کے باعث اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں اور زبان و ادب پر ان کی غزلوں اور نظموں کی صورت میں کیے گئے احسانات آج بھی ان کی موجودگی کی گواہی دیتے ہیں۔
ہر سال پروین شاکر کی پیدائش کے موقعے پر انہیں یاد کیاجاتا ہے۔ معروف شاعرہ پروین شاکر نے شاعری کے علاوہ بطور میزبان ٹی وی پر مختلف انٹرویوز بھی کیے اور اپنی گفتگو اور اردو زبان پر گرفت کا لوہا منوایا۔
معروف قلمکار اور نامور شاعر احمد ندیم قاسمی نے پروین شاکر کی شعر گوئی کی صلاحیت کونکھارنے میں ان کی مدد کی۔ تکنیکی اعتبار سے پروین شاکر کو نئے لب و لہجے کی تازہ بیان شاعرہ سمجھا جاتا ہے جو ادب کیلئے ہوا کا خوشگوار جھونکا ثابت ہوئیں۔
ان کی شاعری نہ تو آہ و زاری والی روایتی عشقیہ شاعری سمجھی جاسکتی ہے اور نہ ہی کھل کھیلنے والی رومانوی شاعری بلکہ جذبے اور احساس کی شدت کا سادہ لیکن فنکارانہ اور پرکار بیان پروین شاکر کی شاعری کا خاصہ رہا۔
متعدد گلوکاروں نے پروین شاکر کی زندگی میں ہی ان کی غزلیں گا کر عوام سے داد سمیٹی جس میں خاص طور پر پروین شاکر کی غزل کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کی، بے حد مشہور ہوئی تاہم یہ واحد غزل نہ تھی جسے گایا گیا، بلکہ ایسی درجنوں غزلیں ہیں
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








