پٹرول کی قیمتوں میں وفاقی حکومت کی طرف سے کیا گیا اضافہ اور مہنگائی کا طوفان

تازہ ترین

تازہ ترین

پٹرول کی قیمتوں میں وفاقی حکومت کی طرف سے کیا گیا اضافہ اور مہنگائی کا طوفان
پٹرول کی قیمتوں میں وفاقی حکومت کی طرف سے کیا گیا اضافہ اور مہنگائی کا طوفان

گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اوگرا کی طرف سے بھیجی گئی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔

وزیرِ اعظم کی منظوری سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ہونے والا یہ اضافہ آنے والے دنوں میں عوام پر مہنگائی کا طوفان بن کر ٹوٹنے والا ہے، جیسا کہ پہلے بھی ہوتا آیا ہے، آئیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سمیت ملک بھر میں مہنگائی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا گیا؟

اوگرا کی طرف سے گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری بھیجی گئی تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید 4 روپے 42 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 3 روپے 20 پیسے اضافہ ہوا۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نوٹیفیکیشن جاری کردیا جس کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 42 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 95 پیسے جبکہ پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 20 پیسے اضافہ کردیا گیا۔ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق گزشتہ شب 12 بجے سے ہوچکا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کا پس منظر 

گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 5 ڈالر کا اضافہ ہوا اور نئی قیمت 55 ڈالر ہوگئی۔ اس پس منظر میں یہ بات طے تھی کہ پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 71 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 50 پیسے تک اضافہ کیا جائے گا۔

تاہم بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا نے تیزی دکھائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی سمری تیار کردی۔ مذکورہ سمری میں پٹرول کی قیمت میں 13 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے فی لٹر اضافہ تجویز کیا۔ یہ سمری میڈیا تک بھی پہنچ گئی جس پر میڈیا نے خوب شور مچایا۔

میڈیا کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر واویلا غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ تجویز کیا تھا وہ عالمی مارکیٹ میں طے کردہ قیمتوں کے برعکس عوام پرمہنگائی کا بد ترین بوجھ ڈالنے والا تھا۔

قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کی سمری کیوں بنائی گئی؟

بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق اوگرا نے پٹرول اور ڈیزل دونوں کی فی لٹر قیمت میں 30 روپے پٹرولیم لیوی کے شامل کر کے عوام کو کچھ وقت کیلئے پریشان کرنے کی پالیسی اپنائی تھی کیونکہ یہ 30 روپے بھی پٹرولیم لیوی کی آخری حد میں شامل ہے۔ 

یہاں بنیادی مقصد اوگرا کا یہ تھا کہ بھاری اضافہ دکھا کر عوام کو کم اضافے کیلئے خوشی سے تیار کیا جاسکے اور یہ ظاہر کیا جائے کہ قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں کیا گیا جس کی سمری اوگرا نے وفاقی کابینہ کو ارسال کی تھی۔

قبل ازیں پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بالترتیب 22 روپے 85 پیسے اور 24 روپے 38 پیسے فی لٹر مقرر تھی۔ اوگرا کی طرف سے پٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا تاکہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی آسانی سے بڑھا لے اور عوام بھی کم اضافہ ہونے کی خبر سن کر خوش ہوجائیں۔ قبل ازیں یکم جنوری سے نافذ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیلئے بھی اوگرا ایسی ہی سمری تیار کرکے یہ روایت قائم کرچکا ہے۔ 

مہنگائی کی صورتحال 

گزشتہ روز تک سونے کی فی تولہ قیمت 1 لاکھ 12 ہزار 900 روپے پر برقرار تھی جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 96 ہزار 794 روپے پر برقرار رہی۔ عالمی صرافہ مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 8 ڈالر کا اضافہ ہوا جس سے نئی قیمت 1 ہزار 847 ڈالر فی اونس ہو گئی۔

آج ملک بھر میں 1 ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0 اعشاریہ 22 فیصد کمی کی نوید سنائی گئی ہے، حالانکہ 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 21 کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔

وفاقی ادارۂ شماریات نے مہنگائی کے اعدادوشمار پر مشتمل ہفتہ وار رپورٹ آج ہی جاری کی ہے جس کے مطابق 7 روز کے دوران مہنگائی کی شرح 5 اعشاریہ 77 فیصد رہی۔

گزشتہ 7 روز کے دوران چینی کی قیمت میں 2 روپے 81 پیسے فی کلو اضافہ ہوا، مٹن، بیف، چاول اور آٹے کی قیمتوں میں بھی معمولی اضافہ نوٹ کیا گیا۔ گھی کی قیمت میں 5 سے 7 روپے فی اڑھائی کلو اضافہ ہوا۔

اسی دوران دال ماش، دال مسور، دال مونگ کی قیمتوں میں بھی کسی قدر اضافہ نوٹ کیا گیا۔ انڈوں کی قیمت 31 روپے فی درجن کم ہوئی، نئی قیمت 167 روپے فی درجن ہوگئی۔ ٹماٹر کی قیمت میں بھی 9 روپے 46 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی۔

زندہ مرغی کی قیمت میں 21 روپے 3 پیسے فی کلو کمی ہوئی جبکہ آلو اور پیاز کی قیمت میں اوسطاً 2 روپے فی کلو کمی نوٹ کی گئی۔ جنوری کے پہلے ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح 15 اعشاریہ 81 فیصد پر آگئی تھی۔ 

ماہرِ معاشیات کی رائے

گزشتہ 2 سال کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے ماہرِ معاشیات مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ رواں برس مہنگائی گزشتہ 2 سالوں کے مقابلے میں کم ہوسکتی ہے۔ 2 سال میں پاکستان نے 19 ارب ڈالر خسارے پر قابو پالیا اور اب ہم سرپلس میں ہیں۔

نجی ٹی وی پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ معاشیات مزمل اسلم نے کہا کہ سن 2022ء تک پاکستان کی معاشی نمو 4 اعشاریہ 4 فیصد تک جائے گی۔

رواں ماہ 13 جنوری کے روز موڈیز نے بھی پاکستان کے بینکنگ آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا اور کہا کہ بینکاری شعبے میں لیکویڈٹی بہتر سطح پر ہے۔ بینکاری میں ترقی کے امکانات خوش آئند ہوں گے۔

سن 2021ء میں پاکستان کی معاشی ترقی موڈیز کے مطابق 1 اعشاریہ 5 فیصد رہنے کی توقع ہے جبکہ معاشی سرگرمیاں کورونا سے پہلے کی سطح پر برقرار رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ رواں برس نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 5 سے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر مہنگائی کی شرح میں کسی قدر کمی کے امکانات نظر آتے ہیں۔ 

Related Posts